0

زوجیلا پاس پہلی بار فروری کے بعد بھی کھلا، برفباری کے باوجود آمدورفت جاری

سری نگر،6 مارچ (یو این آئی) وادی کشمیر اور لداخ کے درمیان زمینی رابطے کے لیے انتہائی اہم زوجیلا پاس پہلی مرتبہ فروری کے اختتام کے بعد بھی کھلا رہا ہے، جو خطے کی آمدورفت اور سپلائی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ بارڈر روڈز آرگنائزیشن نے جمعہ کو اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شدید برفباری کے باوجود سری نگر–لیہ شاہراہ پر واقع یہ اہم درہ بدستور قابلِ آمدورفت ہے۔
تقریباً 11 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر واقع زوجیلا پاس لداخ کو وادی کشمیر سے جوڑنے والی ایک اہم شاہراہ ہے اور شہری ضروریات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ فوجی نقل و حرکت کے لیے بھی اسے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
بی آر او کے مطابق اس سال سخت موسمی حالات اور بھاری برفباری کے باوجود اس اہم پہاڑی راستے کو کھلا رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے، جو موسم سرما کے دوران رابطہ برقرار رکھنے کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔
بی آر او نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ زوجیلا کی بلندیوں پر تاریخ رقم ہو گئی ہے کیونکہ پہلی بار یہ درہ 28 فروری کے بعد بھی کھلا رہا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ کامیابی بی آر او کے اہلکاروں کی انتھک محنت اور عزم کا نتیجہ ہے جنہوں نے لداخ اور کشمیر وادی کے درمیان اس اہم رابطہ شاہراہ کو ہر حال میں فعال رکھنے کے لیے مسلسل کام کیا۔
بی آر او کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہراہ کے دونوں جانب برف کی بلند دیواریں کھڑی ہیں جبکہ برف ہٹانے والی مشینیں اور عملہ مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں بلڈوزرز اور سنو کٹرز کو برف کی موٹی تہوں کو کاٹ کر سڑک صاف کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تاکہ گاڑیاں احتیاط کے ساتھ اس راستے سے گزر سکیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ موسم سرما میں زوجیلا پاس تقریباً 30 دن تک بند رہا تھا، تاہم اس سال اگرچہ بالائی علاقوں میں نسبتاً کم برفباری ریکارڈ کی گئی، اس کے باوجود موسم انتہائی سرد اور چیلنجنگ رہا۔ اس کے باوجود درے کا فروری کے بعد بھی کھلا رہنا ایک اہم ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق زوجیلا پاس کا موسم سرما میں زیادہ عرصے تک کھلا رہنا نہ صرف لداخ اور کشمیر کے درمیان رابطے کو بہتر بنائے گا بلکہ خطے میں اقتصادی سرگرمیوں اور سپلائی چین کو بھی مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں