0

سال 2025: کشمیر کی میوہ صنعت سنگین بحران کا شکار ہوئی

سری نگر، 28 دسمبر(یو این آئی) وادی کشمیرمیں میوہ صنعت معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے تاہم یہ صنعت سال 2025 میں ایسے غیر معمولی اور تباہ کن بحران سے دوچار ہوئی جس کی مثال گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق صرف ایک ہی سیزن میں 2,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا، جو نہ صرف مالیاتی ضرب ہے بلکہ کشمیر کی دیہی معیشت کےلئے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں ہے۔
باغ مالکان کے مطابق مشکلات کی اصل سنگینی اگست کے آخری ہفتے میں اس وقت نمایاں ہونا شروع ہوئی جب وادی بھر میں شدید بارشوں نے تباہ کن صورتحال پیدا کر دی۔ بھرپور اور مسلسل بارشوں کے نتیجے میں سری نگر– جموں قومی شاہراہ کے مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس کی وجہ سے اس شاہراہ پر تقریباً ایک ماہ تک ٹریفک کی نقل و حمل متاثر رہی۔
یہ وہ وقت ہے جب سیب اتارنے کا سیزن اپنے عروج پر ہوتا ہے اور باغات میں تیار پھل ٹرانسپورٹ کے انتظار میں پڑے رہتے ہیں۔ قومی شاہراہ کی بندش سے ہزاروں ٹرک درجنوں میل کی قطاروں میں ایک ہی جگہ جام رہے، کئی ٹرک ہفتوں تک وادی سے باہر نہ نکل سکے اور جب یہ گاڑیاں بالآخر بھارتی منڈیوں تک پہنچیں تو پھل کا بڑا حصہ پہلے ہی خراب ہو چکا تھا۔
باغ مالکان کا کہنا ہے: ‘ہماری ساری محنت اس وقت خاک میں مل گئی جب مارکیٹوں میں پہنچنے والا سیب کوالٹی متاثر ہونے کے باعث کم قیمت پر فروخت ہوا، جبکہ وادی کے اندر موجود پھل بھی ضائع ہو گیا’۔
انہوں نے کہا کہ سپلائی چین کا بکھر جانا اس سال کے تباہ کن اثرات میں سے سب سے خطرناک پہلو ثابت ہوا کیونکہ اس بحران نے صرف اُس سیزن کی فروخت کو متاثر نہیں کیا بلکہ اگلے سال کی کاشت کے وسائل بھی سلب کر لیے۔
کسانوں کے مطابق انہوں نے پیکجنگ، پلاسٹک کریٹس، مزدوری اور ٹرانسپورٹ کےلئے جو قرض اٹھائے تھے، وہ بھی پورے نہ ہوئے۔
جب شاہراہ بند رہی تو حکام نے میوہ صنعت سے وابستہ لوگوں کو راحت پہنچانے کے لئے متبادل کے طور پر مغل روڈ کو فعال کر دیا لیکن یہ راستہ بڑے پیمانے پر پھل سپلائی کرنے کے تقاضے پورے کرنے میں مکمل ناکام رہا۔ یہاں سے صرف چھوٹے ٹرکوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔ کئی باغبانوں نے مجبوراً اپنے پھل چھوٹی گاڑیوں میں لے جا کر راجوری تک پہنچایا اور وہاں سے دوبارہ بڑے ٹرکوں میں بھر کر دہلی، پنجاب اور کلکتہ کی منڈیوں میں بھیجا، جس کے نتیجے میں لاگت مزید بڑھ گئی اور پھل کی کوالٹی بری طرح متاثر ہوئی۔
سال 2025 کے بحران نے یہ حقیقت بھی بے نقاب کر دی کہ کشمیر کی پھلوں کی صنعت صرف موسمی مسائل یا سڑک بندش کا شکار نہیں بلکہ اس میں ایسی ساختی کمزوریاں موجود ہیں جو کسی بھی بڑے بحران کو بڑھاوا دے سکتی ہیں۔
حکومت نے سال رواں کے ماہ ستمبر میں بڈگام سے آدرش نگر دہلی تک پہلی وقف پارسل ٹرین شروع کی۔
حکام نے بتایا کہ یہ نئی مال بردار ٹرین سروس جموں و کشمیر کے سیب کے کاشتکاروں کے لیے اپنی پیداوار کو ملک کے مختلف حصوں تک پہنچانے کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ 8 ڈبوں پر مشتمل یہ پارسل ٹرین روزانہ بنیادوں پر چلے گی اور ایک ڈبے میں لوڈ کی گنجائش 23 ٹن ہے اس طرح اس ٹرین سے 180 سے زیادہ ٹن مال روزانہ بنیادوں پر سری نگر سے دہلی پہنچ جائے گا۔
ادھر باغبانوں نے شکایت کی کہ مارکیٹ میں جعلی ادویات اور غیر معیاری کھادوں کی بھرمار ہے جو درختوں اور پھل کی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ نئی بیماریوں کا پھیلاؤ تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے جبکہ مؤثر نگرانی اور ریگولیشن نہ ہونے کے باعث ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پیداوار بڑھ جانے کے باوجود پھل کی قیمتیں گزشتہ کئی برسوں سے کم ہوتی جا رہی ہیں، جس سے باغ مالکان کا منافع سکڑتا جا رہا ہے۔
اگرچہ وادی میں کولڈ اسٹورز نے باغبانوں کےلئے ایک سہارا فراہم کیا ہے اور کئی لوگوں نے سیب ذخیرہ کرکے بہتر قیمت کا انتظار بھی کیا، مگر ان اسٹورز کی تعداد مجموعی پیداوار کے لحاظ سے انتہائی کم ہے۔
باغ مالکان نے بتایا کہ ‘کولڈ اسٹوریج مالکان اپنی مرضی کے مطابق نرخ طے کرتے ہیں اور کئی بار حکومتی پالیسیوں کو نظر انداز کرتے ہیں، جس سے فائدہ کم اور مشکلات زیادہ پیدا ہوتی ہیں’۔
باغ مالکان کا ماننا ہے کہ اگر حکومت فوری طور پر 200 سے 300 نئے کولڈ اسٹوریج یونٹ قائم کرے، انڈسٹری کو شفاف پالیسی کے تحت ریگولیٹ کرے اور مارکیٹ میکانزم کو بہتر بنائے تو اس صنعت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بحران کے باوجود وادی میں باغبانی کی طرف رجحان بڑھا ہے اور ہائی ڈینسٹی باغات کی توسیع رکنے کا نام نہیں لے رہی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار ہیکٹیئر سے زائد رقبہ پہلے ہی ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن میں تبدیل ہو چکا ہے جبکہ آئندہ برسوں میں 5,500 ہیکٹیئر مزید شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
باغ مالکان کا کہنا ہے کہ اگر انفراسٹرکچر مضبوط نہ کیا گیا تو یہ توسیع بھی مستقبل میں مزید خطرات پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ بغیر انشورنس، بغیر سپورٹ اور بغیر مارکیٹ استحکام کے کوئی بھی سرمایہ کاری غیر محفوظ رہتی ہے۔
میوہ صنعت وادی کی معیشت کا اہم ستون ہے، جو لاکھوں مزدوروں، ڈرائیوروں، پیکرز، باغبانوں، ٹریڈرز اور ایک وسیع کاروباری طبقات کو روزگار فراہم کرتی ہے۔
باغ مالکان کا کہنا ہے کہ اگر اس بحران کا فوری علاج نہ کیا گیا تو اس کا اثر صرف ایک سیزن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ پوری ہارٹیکلچر انڈسٹری کو طویل المدت نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بحران کو محض موسمی یا وقتی مسئلہ نہ سمجھے بلکہ اسے ایک سنگین معاشی خطرہ سمجھ کر فوری اقدامات کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں