0

سال 2025 کے اختتام پر سرخیوں میں رہنے والی 15 ہندستانی خاتون کھلاڑی

نئی دہلی، 27 دسمبر (یو این آئ:
سال 2025 ،کھیلوں کی تاریخ میں صرف جیت یا ہار کے طور پر محفوظ نہیں رہاکیونکہ اس نے روایتی اصولوں کو توڑنے کے بجائے کارکردگی کی قدر کرنے کی مثال قائم کی۔یوں تو کھیلوں کے شعبے میں مرد اور خواتین دونوں نے اپنی اپنی شاندار کارکردگی پیش کی لیکن ہندوستانی خواتین نے کھیل کے متعدد شعبوں میں اپنی شناخت قائم کی اور انہوں نے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔ان مایہ ناز کھلاڑیوں نے صرف انعام کے لیے نہیں، بلکہ ایک بڑے مقصد کے تحت کھیل پیش کئے۔ یہ فہرست اُن سینکڑوں ہندوستانی خواتین کھلاڑیوں میں سے صرف پندرہ کا ذکر ہے، جو مسلسل ایک مردانہ غلبے والے میدان میں رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہیں تاکہ آنے والی نسلیں کھیل کو بطور کریئر دیکھنے کا خواب سجا سکیں۔سال 2025 میں سرخیوں میں رہنے اور ملک کا دل جیتنے والی 15 ہندوستانی کھلاڑی خواتین پر نظر ڈالتے ہیں:
1۔ جیسمن لیمبوریا
اکتوبر 2025 میں لیورپول میں منعقدہ ورلڈ باکسنگ چیمپئن شپ میں ہندوستان نے میڈلز کی فہرست میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جہاں جیسمن لیمبوریا ورلڈ چیمپئن بنیں۔ تاہم یہ کامیابی اکیلے کی نہیں تھی، کیونکہ ان کے ساتھ گولڈ میڈلسٹ میناکشی ہوڈا، سلور میڈلسٹ نوپور شیوران اور برانز میڈلسٹ پوجا رانی بھی شامل تھیں۔ہندوستانی فوج سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون باکسر اور ورلڈ کپ اور ورلڈ چیمپئن شپ دونوں میں گولڈ میڈل جیتنے والی، 25 سال سے کم عمر نائیک صوبیدار جیسمن لیمبوریا نے 2024 پیرس اولمپکس میں خواتین کے 57 کلوگرام کیٹیگری میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ وہ ہندوستان اور ہندوستانی فوج کی نمائندگی کرتی ہیں اور رواں سال کے آغاز میں آستانہ میں باکسنگ کپ فائنلز جیت کر 57 کلوگرام (فیدر ویٹ) زمرے میں یہ اعزاز حاصل کیا۔ اس سے قبل وہ 2022 کامن ویلتھ گیمز میں 60 کلوگرام (لائٹ ویٹ) کیٹیگری میں کانسہ کا تمغہ بھی جیت چکی ہیں۔
2۔ جیوتھی سریکھا وینم
آرچری ورلڈ کپ فائنل میں ہندوستان کا پہلا تمغہ جیتتے ہوئے، جیوتھی سریکھا وینم نانجنگ میں ہونے والے مقابلے میں دنیا کی نمبر 2 کھلاڑی کو شکست دے کر کمپاؤنڈ آرچری میں کانسہ کا تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بن گئیں۔ اس سے قبل وہ ابتدائی راؤنڈ ہی میں مقابلے سے باہر ہو جاتی تھیں، لیکن اس بار ان کے عزم اور حوصلے نے انہیں سیزن کے اختتامی فائنل میں تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بنا دیا۔ سال2017 کی ارجن ایوارڈ یافتہ جیوتھی، ہندوستان کی سب سے زیادہ اعزاز یافتہ کھلاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے نام ورلڈ آرچری چیمپئن شپ کے نو تمغے ہیں، جن میں 2023 میں ٹیم ایونٹ میں ہندوستان کا پہلا عالمی خطاب بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2022 ایشین گیمز میں متعدد گولڈ میڈلز جیتے اور دو عالمی ریکارڈ بھی قائم کیے۔ میڈرڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں انہوں نے رشبھ یادو کے ساتھ مل کر مکسڈ ٹیم ایونٹ میں نیا عالمی ریکارڈ بنایا، جبکہ 2023 میں انہوں نے خواتین کے انفرادی کمپاؤنڈ کوالیفکیشن کا 713 پوائنٹس کا عالمی ریکارڈ برابر کیا۔
3۔ پوجا یعنی پوجا اولّا
تائیوان ایتھلیٹکس اوپن 2025 میں 1500 میٹر اور 800 میٹر دوڑ کے مقابلوں میں دوہرا گولڈ میڈل جیت کر پوجا نے ایک شاندار سال گزارا۔ اس سے قبل اسی سال جنوبی کوریا کے شہر گومی میں منعقدہ 26ویں ایشیائی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں وہ انہی کیٹیگریز میں چاندی اور کانسہ کا تمغہ جیت چکی تھیں، لیکن اس بار انہوں نے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا۔ یہ نیشنل انٹر اسٹیٹ چیمپئن شپ کے بعد ان کی دوسری ڈبل گولڈ کامیابی ہے۔پوجا ساؤتھ ایسٹ سینٹرل ریلوےکے بلاسپور ڈویژن میں ٹکٹ کلیکٹر اور کمرشل کلرک کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہیں ابتدا میں ہاکی کھلاڑی کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔
4۔ جیوتھی یاراجی
ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں خواتین کی 100 میٹر ہرڈلز میں ہندوستان کا پہلا تاریخی طلائی تمغہ جیوتھی یاراجی نے جیتا، اور مئی میں جنوبی کوریا کے شہر گومی میں اسی اعزاز کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے 12.96 سیکنڈ کے ساتھ نیا چیمپئن شپ ریکارڈ قائم کیا۔ قومی سطح پر، انہوں نے اتراکھنڈ میں منعقدہ 100 میٹر ہرڈلز میں مسلسل تیسرا طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، 2024 میں اپنی شاندار کامیابیوں کے اعتراف میں انہیں ارجن ایوارڈ سے بھی باضابطہ طور پر نوازا گیا۔اگرچہ گھٹنے کی انجری کے باعث جولائی میں ان کا 2025 کا سیزن قبل از وقت ختم ہو گیا، تاہم وہ اگلے سال مزید مضبوط واپسی کا عزم رکھتی ہیں۔
5۔ نکہت زرین
انجری کے بعد شاندار واپسی کرتے ہوئے نکہت زرین نے نومبر میں منعقدہ ورلڈ باکسنگ کپ فائنلز میں 51 کلوگرام زمرے میں چائنیز تائپے کی گو یی شوان کو شکست دی۔2024 پیرس اولمپکس میں ایک مشکل سیزن کے بعد، انہوں نے 2025 میں زبردست کارکردگی دکھاتے ہوئے سیمی فائنل اور فائنل دونوں میں متفقہ فیصلوں سے کامیابی حاصل کی۔ اب وہ ایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز کی تیاری اور امیدیں رکھتی ہیں۔
6۔ انو رانی
62.59 میٹر کی سیزن بیسٹ تھرو کے ساتھ ٹاپ 15 میں جگہ بناتے ہوئے، انو رانی نے اگست 2025 میں پولینڈ کے شہر شچیچن میں منعقدہ انٹرنیشنل ویسلاو مانیئک میموریل میں طلائی تمغہ جیتا۔ اس کے بعد انہوں نے اڑیسہ کے بھونیشور میں منعقدہ انڈین اوپن ورلڈ ایتھلیٹکس کانٹین ینٹل ٹور برونز میٹ میں ایک اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا، جہاں ان کی 62.01 میٹر کی فاتح تھرو مسلسل دوسری بار 60 میٹر سے زائد رہی۔یہیں پر رکنے کے بجائے، انہوں نے چنئی میں منعقدہ نیشنل انٹر اسٹیٹ سینئر ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں بھی طلائی تمغہ جیتا اور ٹوکیو میں ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے لیے کوالیفائی کیا، اگرچہ وہ کوالیفائنگ راؤنڈ میں باہر ہو گئیں۔ وہ اب بھی خواتین کے جیولن تھرو میں ہندوستان کا قومی ریکارڈ رکھتی ہیں، جو انہوں نے 2022 میں 63.82 میٹر کی ذاتی بہترین تھرو کے ساتھ قائم کیا تھا۔
7۔ ایشوریہ پِسّے
موٹر اسپورٹس ایتھلیٹ ایشوریہ پِسّے نے ستمبر 2025 میں ایف آئی ایم ورلڈ ریلی ریڈ چیمپئن شپ کے دوران مشکل ریلی ڈو ماروک مکمل کرتے ہوئے ریلی 2 ویمنز کیٹیگری میں سلور میڈل حاصل کیا۔2019 میں باجاس ورلڈ کپ جیتنے کے بعد سے وہ مسلسل تاریخ رقم کر رہی ہیں اور بی پی الٹی میٹ ریلی ریڈ پرتگال جیتنے والی پہلی ایشیائی خاتون بنیں۔ اب ان کی نظریں ڈکار ریلی 2027 پر مرکوز ہیں، جہاں وہ دو پہیوں پر اس ایونٹ میں شرکت اور اسے مکمل کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بننے کے لیے پُرعزم ہیں۔
8۔ دویا دیشمکھ
جارجیا کے شہر باتومی میں منعقد ہونے والے ویمنز چیس ورلڈ کپ کے تیسرے ایڈیشن میں دو ہندوستانی خواتین نے عالمی اعزاز کے لیے مقابلہ کیا۔ کونرو ہمپی اور دویا دیشمکھ کے درمیان تین دن تک سخت مقابلہ جاری رہا اور متعدد ٹائی بریکس کے بعد فائنل اسکور 2.5–1.5 رہا، جس میں دیویا دیشمکھ فاتح قرار پائیں۔اس سنگل ایلیمینیشن ٹورنامنٹ میں دنیا بھر سے 107 کھلاڑیوں نے حصہ لیا، اور دیویا پہلی ہندوستانی خاتون بنیں جنہوں نے فائیڈے ورلڈ چیس چیمپئن کا خطاب جیتا، جبکہ وہ ملک کی صرف چوتھی خاتون گرینڈ ماسٹر بھی بن گئیں۔اس سے قبل وہ دو چیس اولمپیاڈز میں مجموعی طور پر تین طلائی تمغے جیت چکی ہیں۔ ان کے نمایاں اعزازات میں 2024 ویمنز ورلڈ انڈر 20 چیس چیمپئن، 2023 ایشین ویمنز چیمپئن اور 2022 نیشنل ویمنز چیس چیمپئن شامل ہیں۔
9۔ آر۔ ویشالی
خواتین شطرنج میں ہندوستانی کامیابیوں کا سلسلہ برقرار رہا، جب آر۔ ویشالی نے ستمبر میں فائیڈے ویمنز گرینڈ سوئس ٹورنامنٹ دوسری بار جیتا۔ اس سے قبل وہ یہ اعزاز 2023 میں بھی حاصل کر چکی ہیں۔ وہ معروف گرینڈ ماسٹر آر۔ پرگنانندھا کی بڑی بہن ہیں، اور دونوں مل کر گرینڈ ماسٹر کا خطاب حاصل کرنے والی دنیا کی پہلی بہن-بھائی کی جوڑی بنے ہیں۔جونیئر سطح پر بھی ان کی کارکردگی شاندار رہی، جہاں وہ 2012 میں گرلز انڈر 12 ورلڈ یوتھ چیس چیمپئن شپ اور 2015 میں گرلز انڈر 14 ورلڈ ٹائٹل میں ناقابلِ شکست رہیں۔
10-ڈیانا پنڈولے
موٹر اسپورٹس کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے، ڈیانا پُنڈولے 2024 میں ایم آر ایف سیلونز کیٹیگری میں نیشنل کار ریسنگ چیمپئن شپ جیتنے کے بعد بین الاقوامی ریسنگ چیمپئن شپ فیراریات میں مقابلہ کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بننے جا رہی ہیں۔ چونکہ یہ ایک جینڈر نیوٹرل ٹورنامنٹ ہے، اس لیے وہ اب فیراری کلب چیلنج میں ہندوستان کی نمائندگی کریں گی اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ایف ون ٹریکس پر فیراری 296 چیلنج کار چلائیں گی۔انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری رکھنے والی سابق اسکول ٹیچر اور دو بچوں کی ماں، ڈیانا نے اکیلے ہی خواتین، کام کی جگہ اور کھیلوں سے جڑے کئی دقیانوسی تصورات کو توڑ کر ایک نئی مثال قائم کی ہے۔
11-ڈِمپل راوت
اتراکھنڈ سے تعلق رکھنے والی فائر فائٹر ڈِمپل راوت نے امریکا کے شہر برمنگھم میں منعقدہ ورلڈ پولیس اینڈ فائر گیمز میں کانسہ کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے دیگر کئی ٹیم ایونٹس میں چاندی اور کانسہ کے تمغے بھی حاصل کیے، جبکہ قومی سطح پر نئی دہلی میں منعقدہ تھرڈ آل انڈیا فائر سروس گیمز 2025 میں 5000 میٹر دوڑ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ٹیم ایونٹس میں ان کے ساتھ مادھوری بھنڈاری اور پنکی راوت بھی شامل تھیں۔ ان کامیابیوں کے ذریعے ڈِمپل راوت نے ملک بھر کی خواتین کے لیے اُن پیشوں کو چیلنج کرنا ممکن بنایا ہے جو عموماً خواتین کے لیے ناموزوں یا ممنوع سمجھے جاتے ہیں۔
12۔ انوپما رام چندرن
آئی بی ایس ایف ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ 2025 کے باوقار 15-ریڈ فارمیٹ کا خطاب انوپما رام چندرن نے نومبر 2025 میں دوحہ میں ہانگ کانگ کی تین بار کی عالمی چیمپئن اینگ آن یی کو سنسنی خیز مقابلے میں 3-2 سے شکست دے کر جیتا۔ اس فتح کے ساتھ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بن گئیں، تاہم ان کی کامیابیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔وہ تمل ناڈو اسٹیٹ رینکنگ چیمپئن شپ میں تمام چھ اعزازات جیتنے والی پہلی کیوسٹ ہیں اور آٹھ نیشنل جونیئر ٹائٹلز بھی اپنے نام کر چکی ہیں۔ 15 برس کی عمر میں انہوں نے 2017 میں آئی بی ایس ایف انڈر 16 ورلڈ چیمپئن شپ میں اپنا پہلا بین الاقوامی طلائی تمغہ جیتا۔ 2021 میں ورلڈ ویمنز انڈر 21 ٹائٹل، 2023 میں ورلڈ ویمنز اسنوکر ورلڈ کپ اور 2024 میں ایشین اسنوکر چیمپئن شپ کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ اس وقت وہ پبلک پالیسی میں پوسٹ گریجویٹ ڈگری حاصل کر رہی ہیں، اور بلا شبہ انہوں نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
13- سنجو دیوی
بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں نومبر میں منعقدہ ویمنز کبڈی ورلڈ کپ 2025 کے فائنل میں چائنیز تائپے کے خلاف 16 ریڈ پوائنٹس حاصل کرتے ہوئے سنجو دیوی کو ٹورنامنٹ کی سب سے قیمتی کھلاڑی (ایم وی پی) قرار دیا گیا۔ فائنل میں ان کا فیصلہ کن چار پوائنٹس کا سپر ریڈ ہی وہ لمحہ تھا جس نے میچ کا رخ بدل دیا اور ہندوستان کو مسلسل دوسری بار عالمی خطاب دلایا۔سنجو دیوی چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون کبڈی کھلاڑی ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کی۔ وہ نہ صرف استقامت کی علامت ہیں بلکہ ہندوستان میں باصلاحیت مگر محروم کھلاڑیوں کے لیے سرکاری اور کارپوریٹ تعاون کی بھرپور وکیل بھی ہیں۔
14۔ دیپتی شرما
دو ماہ پر محیط ایک سنسنی خیز جدوجہد اس وقت سب سے زیادہ ثمر آور ثابت ہوئی جب آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2025 میں ہندوستان نے جنوبی افریقہ کو شکست دے کر اپنی تاریخ کا پہلا عالمی خطاب جیتا۔ہندوستانی آل راؤنڈر دیپتی شرما کو ٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، اور وہ اب واحد ہندوستانی کھلاڑی ہیں خواہ مرد ہوں یا خواتین جنہوں نے ایک ہی ورلڈ کپ ایڈیشن میں 200 سے زائد رنز اسکور کیے اور 20 سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے تین نصف سنچریاں بنائیں اور ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں بھی حاصل کیں۔ فائنل میں انہوں نے پانچ وکٹیں لے کر ایک اور ریکارڈ قائم کیا اور ایسا کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بن گئیں۔اب ہندوستان کی ورلڈ کپ فتح کی معمار کہلانے والی دیپتی شرما، ون ڈے انٹرنیشنل میں پانچ وکٹیں لینے والی سب سے کم عمر ہندوستانی کھلاڑی بھی ہیں، چاہے مرد ہوں یا خواتین۔ وہ 2017 میں پونم راوت کے ساتھ ویمنز ون ڈے میں 320 رنز کی اوپننگ شراکت کا عالمی ریکارڈ رکھتی ہیں اور ویمنز پریمیئر لیگ 2026 کی نیلامی میں 3.2 کروڑ روپے کے ساتھ سب سے مہنگی کھلاڑی بھی رہیں۔
15۔ پھولا سارین
ہندوستانی خواتین بلائنڈ کرکٹ ٹیم کی نائب کپتان پھولا سارین کو فائنل میچ میں 44 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے پر پلیئر آف دی فائنل قرار دیا گیا۔ آل راؤنڈر (بی 3 کیٹیگری) کی حیثیت سے انہوں نے کپتان دیپیکا ٹی سی کے ساتھ مل کر ہندوستان کو سات وکٹوں سے فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کم عمری میں والدہ کے انتقال اور شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنے والی اڈیشہ سے تعلق رکھنے والی یہ کھلاڑی حوصلے، استقامت اور امید کی علامت ہیں۔پھولا سارین نے اپنی کامیابی کے بعد پیرا ایتھلیٹس کے لیے بہتر سہولیات اور تعاون کا مطالبہ کیا ہے، اور ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اپنے خاندان کے لیے مستقل رہائش کی فراہمی کے سلسلے میں بھی درخواست پیش کی ہے۔
سال کا اختتام ایک اور شاندار کامیابی کے ساتھ ہوا، جب ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم نے 2 نومبر 2025 کو نوی ممبئی کے ڈی وائی پاٹل اسٹیڈیم میں آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ (ڈبلیو سی سی) کے فائنل میں جنوبی افریقہ کو شکست دے کر فتح حاصل کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں