0

سرحدی علاقوں میں غیر معمولی چوکسی، فوج اور پولیس کی مشترکہ نگرانی

جموں،14دسمبر(یو این آئی) لائن آف کنٹرول پر سیکیورٹی چیلنجز میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر فوج نے اپنی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو مزید وسعت دے دی ہے۔ فوج نے حساس سرحدی علاقوں میں گشت کے نظام کو ازسرنو ترتیب دیتے ہوئے بلند پہاڑی سلسلوں، گھنے جنگلات اور روایتی دراندازی راستوں پر مسلسل نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق عام طور پر شدید برفباری سرحدی درّوں اور پہاڑی راستوں کو بند کر دیتی ہے، تاہم اس سال نسبتاً خشک موسم نے کئی ایسے علاقوں کو کھلا رکھا ہے جہاں سے دراندازی کی کوششیں ماضی میں سامنے آتی رہی ہیں۔ اسی تناظر میں فوج نے راجوری اور پونچھ اضلاع میں سیکیورٹی بندوبست کو غیر معمولی طور پر مضبوط کیا ہے۔
فوجی حکام نے بتایا کہ ان اضلاع کے جنگلاتی اور پہاڑی علاقوں میں قدرتی غاریں اور پناہ گاہیں موجود ہیں جنہیں سرحد پار سے آنے والے دہشت گرد عارضی ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کم برفباری کی صورت میں ان مقامات تک رسائی آسان ہو جاتی ہے، جس کے باعث فوج نے ان علاقوں میں مسلسل نگرانی کو لازمی قرار دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سردیوں کے دوران دھند، کہرے اور محدود شہری نقل و حرکت بعض اوقات مشتبہ سرگرمیوں کے لیے سازگار حالات پیدا کر دیتی ہے۔ اسی لیے فوج نے سرمائی سیکیورٹی حکمت عملی کے تحت پیشگی اقدامات کو ترجیح دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ابتدا ہی میں ناکام بنایا جا سکے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اگرچہ محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں برفباری کی پیش گوئی کی ہے، تاہم فوج نے روایتی دراندازی راہداریوں اور حساس پہاڑی گزرگاہوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔ جدید ڈرونز، گراؤنڈ سینسرز اور نگرانی کے دیگر آلات کے ذریعے ایل او سی سے ملحقہ علاقوں پر چوبیس گھنٹے نظر رکھی جا رہی ہے۔
فوجی جوان سخت موسمی حالات کے لیے مخصوص لباس اور ساز و سامان کے ساتھ دشوار گزار علاقوں میں مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فوج اور جموں و کشمیر پولیس کے درمیان تال میل کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ زمینی سطح پر معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائیوں میں تیزی لائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق فوج نے موسم سرما کے لیے درکار تمام ضروری سامان پہلے ہی جمع کر لیا ہے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ حکام نے واضح کیا کہ ایل او سی پر سیکیورٹی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور کسی بھی دراندازی کی کوشش کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنا ان کی اولین ذمہ داری ہے اور موسم کی سختیوں کے باوجود سیکیورٹی فورسز پوری طرح چوکس ہیں تاکہ جموں خطے میں دہشت گردی کے کسی بھی منصوبے کو ناکام بنایا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں