0

سونہ وار میں اقوام متحدہ دفتر کے باہر لوگوں کا احتجاجی دھرنا

سری نگر،یکم مارچ (یو این آئی) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد وادی کشمیر کے اطراف و اکناف میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ سونہ وار سرینگر میں قائم اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بڑا احتجاجی دھرنا منعقد ہوا جس میں مرد، خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی اور امریکا و اسرائیل کے خلاف شدید احتجاجی پیغامات درج تھے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو عالمِ اسلام پر بڑا حملہ قرار دیا۔ انہوں نے واشنگٹن اوراسرائیل کے کردار کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
احتجاج کے دوران متعدد مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات نے پوری مسلم دنیا کو سوگوار کر دیا ہے اور کشمیر کے عوام اس دکھ اور بے چینی میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیر میں ہونے والی یہ ریلیاں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تسلط اور جارحیت کا روکا جانا ممکن ہو۔
انتظامیہ نے سونہ وار علاقے میں سخت سیکورٹی انتظامات کیے تھے۔ پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات رہی جبکہ سی سی ٹی وی نگرانی اور ٹریفک کنٹرول کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے تاکہ امن و امان برقرار رہے اور احتجاج کسی ناخوشگوار صورتحال میں نہ بدلے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہا اور مظاہرین نے دھرنا مقررہ وقت پر ختم کیا۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور پُرامن ماحول برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے فورسز چوکس ہیں اور حالات پر باریک بینی سے نظر رکھی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں