نئی دہلی، 3 مارچ (یواین آئی) کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مارے جانے کی مذمت کی ہے اور اس معاملے پر مودی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
محترمہ گاندھی نے ایک اخبار میں لکھے مضمون میں کہا کہ حکومت کی یہ خاموشی غیر جانبداری نہیں، بلکہ ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے، جس سے ہندستان کی خارجہ پالیسی کی سمت اور اس کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندستان کی خارجہ پالیسی تاریخی طور پر خودمختار مساوات، عدم مداخلت اور پرامن حل جیسے اصولوں پر مبنی رہی ہے۔ خاموشی ان اصولوں کے منافی معلوم ہوتی ہے۔
سونیا گاندھی نے کہا کہ یکم مارچ کو ایران نے تصدیق کی تھی کہ اس کے سپریم لیڈر ایک روز قبل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ہدفی حملوں میں مارے گئے۔ انہوں نے اسے جاری سفارتی مذاکرات کے دوران کسی برسرِ اقتدار سربراہِ مملکت کا قتل قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات میں ایک سنگین خلل بتایا اور اس معاملے پر پارلیمنٹ میں جامع بحث کا مطالبہ کیا ہے۔
محترمہ گاندھی نے الزام عائد کیا کہ حکومت ہند نے نہ تو اس قتل کی واضح مذمت کی اور نہ ہی ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر کوئی ٹھوس ردعمل دیا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندرمودی نے اپنے ابتدائی ردعمل میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا ذکر کیے بغیر صرف ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات (یواے ای) پر کی گئی جوابی کارروائی پر تنقید کی۔ بعد ازاں انہوں نے عمومی تشویش ظاہر کرتے ہوئے مکالمے اور سفارت کاری کی بات کہی، حالانکہ حملوں سے قبل یہی عمل جاری تھا۔
محترمہ گاندھی نے کہا کہ باضابطہ اعلانِ جنگ کے بغیر اور سفارتی عمل کے دوران کسی سربراہِ مملکت کا قتل اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی روح کے خلاف ہے، جو کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے اقدامات پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی جانب سے اصولی اعتراض درج نہ کیا جائے تو بین الاقوامی معیارات کا زوال معمول بنتا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے سے 48 گھنٹے قبل وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورے سے واپس آئے تھے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو حکومت کے تئیں حمایت کا اعادہ کیا تھا۔ ان کے مطابق عالمی جنوب کے کئی ممالک اور برکس شراکت داروں کی جانب سے فاصلہ اختیار کیے جانے کے درمیان ہندستان کا یہ مؤقف تشویش ناک ہے اور اس سے عالمی سطح پر غلط پیغام جاتا ہے۔
0
