0

سپریم کورٹ نے ایک شخص کا لائف سپورٹ سسٹم ہٹاکرپرسکون موت کی اجازت دے دی

نئی دہلی ،11مارچ (یواین آئی) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز غازی آباد سے تعلق رکھنے والے ایک 31 سالہ شخص کو، جو تقریباً 13 سالوں سے کومہ یابے ہوشی کی حالت میں ہے، لائف سپورٹ سسٹم ہٹا کر پرسکون موت کی اجازت دے دی ہے۔اپنے 2018 کے ’کامن کاز‘ فیصلے (جس میں 2023 میں ترمیم کی گئی تھی) کی روشنی میں، جس میں وقار کے ساتھ مرنے کے بنیادی حق کو تسلیم کیا گیا ہے، جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل بینچ نے 32 سالہ ہریش رانا کا لائف سپورٹ سسٹم ہٹانے کی اجازت دے دی ہے۔ رانا ایک عمارت سے گرنے کے بعد گزشتہ 13 سالوں سے ناقابلِ واپسی مستقل ’ویجیٹیٹیو اسٹیٹ‘ یعنی غیر فعال ذہنی حالت میں ہیں۔ ان کی دماغی چوٹ نے انہیں 100 فیصد ’کواڈری پلیجیا‘ (چاروں اعضاء کی مفلوجی) کے ساتھ مستقل بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ دیا ہے۔
طبی رپورٹس کے مطابق، گزشتہ 13 سالوں میں ان کی طبی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ وہ صرف پی ای جی ٹیوبوں کے ذریعے دی جانے والی طبی غذائیت پر زندہ ہیں۔ بینچ نے یہ حکم والد کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست پر جاری کیا جس میں اپنے بیٹے کے تمام لائف سپورٹ کوہٹانے کی استدعا کی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں