نئی دہلی، 17 مارچ (یواین آئی) سپریم کورٹ نے منگل کے روز ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ‘سوشل سکیورٹی کوڈ، 2020’ کی اس شق کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جو صرف تین ماہ سے کم عمر کے بچے کو گود لینے والی ماؤں کو ہی زچگی کے فوائد دینے کی اجازت دیتی تھی عدالت نے اس پابندی کو ‘من مانی’ اور آئین کے آرٹیکل 14 (مساوات کا حق) کی خلاف ورزی قرار دیا ہےجسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ بنچ نے کہا کہ بچہ تین ماہ سے کم عمر کا ہو یا اس سے زیادہ کا، اسے گود لینے والی ماں کا کردار اور ذمہ داریاں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ گود لیے گئے بچے کی ضروریات حقیقی بچے سے مختلف نہیں ہوتیں۔
عدالت نے کہا کہ محض بچے کی عمر کی بنیاد پر ماؤں کے درمیان تفریق کرنا غیر منطقی ہے اور اس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں قانونی طور پر گود لینے کا عمل مکمل ہونے تک بچہ اکثر تین ماہ کی عمر پار کر چکا ہوتا ہے۔ ایسے میں پرانا قانون اکثر ماؤں کو اس حق سے محروم کر رہا تھا۔
عدالت کے اس فیصلے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بچہ گود لینے والی تمام مائیں اور ‘کمیشننگ مدرز’ (سروگیسی کے معاملے میں) بچے کی سپردگی کی تاریخ سے 12 ہفتوں کے زچگی کے فوائد کی حقدار ہوں گی۔ اب بچے کی عمر ان فوائد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ عدالت نے مانا کہ گود لینے کے بعد بچے اور والدین کے درمیان جذباتی اور نفسیاتی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ابتدائی وقت اور حکومتی تعاون لازمی ہے۔
سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے ساتھ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے مرکزی حکومت کو ‘پدرانہ رخصت’ کو سماجی تحفظ کے فائدے کے طور پر تسلیم کرنے پر غور کرنے کی تجویز بھی دی۔ عدالت نے کہا کہ بچے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری صرف ماں کی نہیں ہوتی، اس لیے باپ کے لیے بھی رخصت کا انتظام ہونا چاہیے جو بچے اور والدین دونوں کی ضروریات کے مطابق ہو۔
یہ فیصلہ ‘میٹرنٹی بینیفٹ ایکٹ، 1961’ اور بعد میں ‘سوشل سکیورٹی کوڈ، 2020’ میں شامل پرانی شقوں کو چیلنج کرنے والی درخواست پر آیا ہے۔
