0

سکمز اور جی ایم سی میں کینسر کیسز میں نمایاں اضافہ، 2025 میں مجموعی طور پر 4,529 نئے مریض رجسٹرڈ

جموں،13فروری(یو این آئی) جموں و کشمیر میں کینسر میں مسلسل اضافے اور اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹس میں عملے کی قلت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے اسمبلی میں واضح کیا ہے کہ جموں اور کشمیر، دونوں خطوں میں قائم اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹس کو مرحلہ وار مکمل طور پر فعال بنایا جا رہا ہے اور مطلوبہ عملے کی باقاعدہ تقرری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ایم ایل اے شیخ احسن احمد پردیسی نے اپنے سوال میں نشاندہی کی تھی کہ ریاستی کینسر انسٹی ٹیوٹ بغیر متعلقہ میڈیکل، نیم طبی اور ٹیکنیکل عملے کی تخلیق کے قائم کیا گیا، جس کے سبب مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور علاج میں تاخیر ہو رہی ہے۔ جواب میں محکمہ صحت نے بتایا کہ اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ جموں کو 4 فروری 2023 سے مرحلہ وار فعال کیا گیا ہے اور اس کے لیے ضروری عملے کی منظوری حکومت نے 5 مئی 2021 کے آرڈر کے ذریعے پہلے ہی دے رکھی ہے۔
اسی طرح ایس کے آئی ایم ایس صورہ میں قائم 100 بستروں پر مشتمل اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ مرکزی فنڈنگ کے تحت 5 دسمبر 2020 کو کمیشن کیا گیا تھا، تاہم انفراسٹرکچر کی توسیع اب بھی جاری ہے۔ فی الحال انسٹی ٹیوٹ کا تقریباً 80 فیصد حصہ مین ہسپتال کے دستیاب عملے کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جبکہ مستقل ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل اور ٹیکنیکل اسٹاف کی نئی اسامیوں کی تخلیق کی تجویز زیر غور ہے۔
حکومت کے مطابق کینسر کیسز میں اضافہ بہتر تشخیص اور تشخیصی سہولیات کی وسعت کا نتیجہ ہے، جسے براہ راست بیماری میں اضافے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ ایس کے آئی ایم ایس میں پیٹ اسکین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جو 2024 میں 1410 سے بڑھ کر 2025 میں 2250 ہوگئی۔ حکومت نے کہا کہ جی ایم سی جموں میں پیٹ اسکین کی رپورٹ زیادہ سے زیادہ تین سے چار دن میں فراہم کی جاتی ہے، اور جہاں سہولیات دستیاب نہیں، وہاں مریضوں کو باقاعدہ ریفرل پروٹوکول کے تحت متعلقہ اسپتالوں بھیجا جاتا ہے۔
سرجریوں، پیٹ اسکین، ایم آر آئی اور دیگر اہم ٹیسٹوں میں تاخیر سے متعلق سوال کے جواب میں حکومت نے کہا کہ مریضوں کے بڑھتے دباؤ کے پیش نظر سہولیات میں توسیع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ جی ایم سی سری نگر کے لیے ایک نئی پیٹ سکین مشین کی خریداری کی منظوری بھی دے دی گئی ہے، جس پر 16 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ حکومت کے مطابق اس نئے قدم سے مریضوں کو وقت پر تشخیص اور علاج میں کافی سہولت ملے گی۔
محکمہ صحت نے یقین دلایا کہ کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں انسٹی ٹیوٹس میں عملے کی فراہمی، جدید مشینری کی دستیابی، اور ٹریٹمنٹ سہولیات کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں