سری نگر 19 مارچ (عقاب نیوز) ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (CIK) نے سری نگر سے چلنے والے ایک انتہائی جدید اور بین الاقوامی سائبر فراڈ نیٹ ورک کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں سات مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور کروڑوں روپے کے لین دین پر مبنی ایک مکمل ڈیجیٹل اسکام نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ سی آئی کے-سی آئی ڈی (CIK-CID) کو غیر ملکی اور مقامی شہریوں کو نشانہ بنانے والے خفیہ کال سینٹرز کی غیر قانونی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں ٹھوس اور تکنیکی معلومات موصول ہوئی تھیں۔
اس اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے سی آئی کے نے تکنیکی ماہرین اور فیلڈ اہلکاروں پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔ ان ٹیموں نے مختلف مقامات پر منظم نگرانی، ڈیجیٹل انٹیلی جنس اکٹھا کرنے اور تصدیق کا عمل شروع کیا، جس کے نتیجے میں بالآخر انڈسٹریل ایریا، رنگریٹ، سری نگر میں ان کے مرکزی آپریشنل مرکز کی نشاندہی کی گئی۔
جاری کردہ بیان کے مطابق، اس پیش رفت کے بعد سی آئی کے کی ٹیموں نے سری نگر شہر کے مختلف حصوں میں تیزی سے اور مربوط چھاپے مارے۔ ان چھاپوں کے دوران سات (07) مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور بھاری مقدار میں ڈیجیٹل اور مواصلاتی آلات ضبط کیے گئے۔ ضبط کیے گئے سامان میں 13 موبائل فونز، 09 لیپ ٹاپس، وی او آئی پی (VoIP) سسٹمز، سم کارڈز، نیٹ ورکنگ ڈیوائسز اور ڈیجیٹل سٹوریج میڈیا وغیرہ شامل ہیں۔
برآمد ہونے والے آلات کی تفصیلات بتاتے ہوئے حکام نے کہا کہ ان میں 2 آئی فون 17، 3 آئی فون 16، 2 آئی فون 10، 2 آئی فون 11، 1 سام سنگ گلیکسی ایس 25 ایف ای، 1 ریڈمی 11 ٹی جی 5، 1 نارزو 50 اے، 1 ریڈمی نوٹ 7 پرو، 1 ایپل آئی پیڈ، 3 ڈیل لیپ ٹاپس، 4 ایچ پی لیپ ٹاپس اور 2 ایپل میک بکس شامل ہیں۔
ملزمان کے طریقہ کار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے وی او آئی پی (VoIP) پر مبنی سسٹمز کا استعمال کرتے ہوئے ایک خفیہ (غیر رجسٹرڈ) کال سینٹر کا انفراسٹرکچر قائم کر رکھا تھا۔ اس نظام کے ذریعے وہ بین الاقوامی ورچوئل نمبرز بناتے، سرور روٹنگ اور سپوفنگ (Spoofing) تکنیک کی مدد سے اپنی اصل لوکیشن چھپاتے اور خود کو ایک جائز سروس پرووائیڈر کے طور پر پیش کر کے معصوم لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے۔
اس کال سینٹر کے ذریعے بین الاقوامی کالز کی جاتی تھیں۔ شکار کو پھنسانے کے لیے ایک جعلی YahooMail.com ویب سائٹ اور گوگل اشتہارات کا استعمال کیا جاتا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ منظم کال آپریشنز اور آن لائن فشنگ (Phishing) اشتہارات کے ذریعے متعدد ممالک میں لوگوں سے رابطہ کیا گیا۔ جیسے ہی کوئی شخص اشتہار پر کلک کرتا، اس کی سکرین پر ایک ٹول فری نمبر ظاہر ہوتا جو ملزمان آپریٹ کر رہے ہوتے تھے، اور پھر وہ باتوں میں الجھا کر لوگوں کی بینکنگ اور دیگر ذاتی تفصیلات حاصل کر لیتے تھے۔
فراڈ کی گئی رقم کو بعد ازاں مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کیا جاتا تھا، جن میں میول اکاؤنٹس (Mule accounts) اور کریپٹو کرنسی والٹس (بنیادی طور پر USDT) شامل ہیں۔ اس غیر قانونی کمائی کے ذرائع کو چھپانے کے لیے اسے مزید مختلف طریقوں سے منتقل کر کے نکالا جاتا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں نقد رقم کا کوئی لین دین شامل نہیں تھا، جو اس جرم کی مکمل ڈیجیٹل اور جدید نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ حکام کے مطابق، اب تک ہونے والا یہ لین دین کروڑوں روپے پر محیط معلوم ہوتا ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ ضبط کیے گئے مواد اور آلات سے کافی ٹھوس اور مجرمانہ شواہد ملے ہیں، جو واضح طور پر ایک انتہائی منظم اور تکنیکی اعتبار سے جدید ترین مجرمانہ سیٹ اپ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
