0

صدر ٹرمپ کی ایران میں پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

جمعہ 3 اپریل (عقاب ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ امریکا اس کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنا کر تباہ کر سکتا ہے۔
جمعے کو صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کے بارے میں ایک نئے بیان میں کہا کہ ’امریکی فوج نے ابھی تک ایران میں باقی رہ جانے والی تنصیبات کو تباہ کرنا شروع بھی نہیں کیا۔ اگلا ہدف پل اور پھر بجلی گھر ہوں گے۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران کی قیادت جانتی ہے کہ کیا کرنا ہے، اور اسے فوراً کرنا ہوگا۔‘
بدھ کو انھوں نے قوم سے ٹی وی خطاب میں کہا تھا کہ اگر ایران نے امریکہ کی شرائط نہ مانیں تو جنگ میں مزید شدت آ سکتی ہے اور ایران کے توانائی اور تیل کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم اگلے دو سے تین ہفتوں میں ان کو انتہائی سخت طریقے سے نشانہ بنانے والے ہیں اور ان کو اسی پتھر کے زمانے میں بھیجنے جا رہے ہیں جہاں سے ان کا تعلق ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا اپنے اہداف کے قریب پہنچ رہا ہے تاہم انھوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی۔
صدر ٹرمپ کے بیان پر امریکا میں بین الاقوامی قانون کے کئی ماہرین نے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ ایران پر امریکی حملے ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
خط کے متن کے مطابق جنیوا کنونیشن کے تحت جنگ کے دوران شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ممنوع ہے اور فریقین پر لازم ہے کہ وہ شہری اور فوجی اہداف میں فرق کریں۔

امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں حالیہ دنوں اضافہ کیا ہے: فائل فوٹو اے ایف پی

دوسری جانب ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق کرج میں پل پر حملے کے بعد خطے کے کئی اہم پل ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن اور کویت کے پل شامل ہیں۔
ایران جنگ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
اس تنازعے نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں غیر ممعولی اضافہ ہوا ہے جبکہ صدر ٹرمپ کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں