0

عمر عبداللہ کی گلمرگ کو بین الاقوامی اسکی مرکز بنانے کے لئے مصنوعی برفباری کی حمایت

سری نگر، 23 فروری (یو این آئی) جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں کا شیڈول برفباری کی اصل صورتحال کے مطابق طے کیا جانا چاہئے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت مصنوعی برف بانے کے انتظامات کی طرف بڑھے گی تاکہ گلمرگ کو ایک قابل عمل بین الاقوامی اسکی مقام کے طور پر بر قرار رکھا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار پیر کو سیاحتی مقام گلمرگ میں کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا ‘میں پھولوں کی وادی میں تمام کھلاڑیوں کا خیر مقدم کرتا ہوں، تاہم غیر موسمی گرمی اور تیز دھوپ نے اسکئینگ کے حالات کو مشکل بنا دیا ہے’۔
ان کا کہنا تھا ‘چند ہفتے قبل یہاں ہوئی بھاری برف باری دیکھ کر ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ کھیلوں کے آغاز تک ایسی گرمی ہوجائے گی، ہمیں گیمز کے انعقاد کے لئے اپنی منصوبہ بندی میں تبدیلی لانی چاہئے’۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انتطامیہ گلمرگ کو ایک بین الاقوامی سکی مقام کے طور پر فروغ دینے کے لئے پر عزم ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ہم سال کے آغاز میں ہی سرمائی کھیلوں کی تاریخیں طے کر دیتے ہیں یہ جانے بغیر کہ برف باری کب ہوگی، میں منتظمین سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ ان گیمز کے لئے تاریخیں پہلے ہی مقرر نہ کریں بلکہ مناسب برف باری ہونے کے 10 یا 15 دن بعد گیمز منعقد کریں تاکہ موزوں حالات دستیاب ہوں’۔
ان کا کہنا ہے کہ پانی اور بجلی کے استعمال سے متعلق خدشات کے با وجود حکومت کو مصنوعی برف بنانے کے نظام میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ‘اگر ہم انفراسٹرکچر کو تیار نہ کر سکے تو ایک دن ایسا آسکتا ہے جب گلمرگ میں اسکیئنگ ممکن نہ رہے گی جو بہت ہی افسوسناک ہوگا’۔
انہوں نے کہا کہ سیاحت سے وابستہ ہزاروں افراد جن میں اسکی انسٹرکٹر، گائیڈز، سلیج چلانے والئ اور اے ٹی وی آپریٹر شامل ہیں، برف پر منحصر ہیں اور سرمائی کھیلوں کی پائیدار ترقی مقامی معیشت کو بھی مدد دیتی ہے۔
حالیہ بین الاقوامی سرمائی کھیلوں کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا ‘میں نے اٹلی شہر کے کورٹینا میں منعقدہ سرمائی کھیلوں کی نشریات دیکھیں اور عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کرنے پر بھارتی اسکیئر عارف خان کو مبادکباد پیش کی’۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ گلمرگ میں منعقدہ سرمائی کھیلوں میں مزید کھلاڑی عارف خان کی طرح ابھر کر سامنے آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا ‘اتنی بڑی آبادی کے باوجود ہم اب تک ایشیائی ونٹر گیمز یا ونٹر اولمپکس میں کوئی تمغہ حاصل نہیں کرسکے’۔
انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کا انفراسٹرکچر، سہولیات اور کوچنگ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ کھلاڑی بین الاقومی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔
انہوں نے کھیلوں میں شکرکت کرنے والے کھاڑیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا ‘میں ملک بھر سے آئے ہوئے کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اگلے تین دن آپ کے لئے بہترین ہوں اور جیسا ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ کھیلوں میں حصہ لینا جیتنے سے زیادہ ضروری ہوتا ہے’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں