0

عیدالفطر سے قبل کشمیر میں مٹن کی قیمتوں میں اضافہ

بازاروں میں سرکاری نرخ سے زیادہ فروخت،صارفین نالاں

سرینگر// 15مارچ//یو این ایس سرینگر//عیدالفطر کی آمد سے قبل وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں مٹن سرکاری نرخ سے زیادہ قیمت پر فروخت ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث بازاروں میں قصاب من مانی نرخ وصول کر رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق جموں و کشمیر انتظامیہ نے مٹن کی خوردہ قیمت 750 روپے فی کلوگرام مقرر کر رکھی ہے، تاہم متعدد اضلاع کے رہائشیوں کے مطابق کئی بازاروں میں مٹن 800 روپے فی کلوگرام تک فروخت کیا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق سری نگر، بارہمولہ، بانڈی پورہ اور وادی کے دیگر علاقوں میں صارفین نے زائد قیمت وصول کیے جانے کی شکایت کی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عیدالفطر قریب آنے کے ساتھ ہی گوشت کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کا فائدہ اٹھا کر بعض دکاندار نرخ بڑھا دیتے ہیں۔سری نگر کے ایک رہائشی بشیر احمد نے بتایا کہ وہ عید کی تیاریوں کے سلسلے میں گھر کے لیے مٹن خریدنے گئے تو دکاندار نے 800 روپے فی کلو قیمت طلب کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری نرخ کا حوالہ دیا گیا تو دکاندار نے جواب دیا کہ اس وقت ہر جگہ یہی قیمت چل رہی ہے۔اسی طرح بانڈی پورہ کے رہائشی عبدالرشید نے بھی شکایت کی کہ وہاں کے بازاروں میں بھی مٹن سرکاری نرخ سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے قیمت 750 روپے فی کلومقرر کی ہے تو پھر عوام کو 800 روپے ادا کرنے پر کیوں مجبور کیا جا رہا ہے۔بارہمولہ کے کچھ علاقوں سے بھی اسی نوعیت کی شکایات موصول ہوئی ہیں جہاں مقامی لوگوں کے مطابق عیدالفطر کے قریب آتے ہی قیمتوں میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال عید سے پہلے یہی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جبکہ بازاروں میں چیکنگ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔یو این ایس کے مطابق صارفین کے مطابق فی کلو 50 روپے کا فرق بظاہر کم لگتا ہے لیکن مہنگائی کے اس دور میں یہ اضافہ عام لوگوں کے لیے اضافی بوجھ بن جاتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عید کے موقع پر گوشت کی خریداری لازمی سمجھی جاتی ہے۔دریں اثنا آل جموں و کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر معراج الدین گنی نے مٹن کی زائد قیمت پر فروخت کی اطلاعات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی دکاندار سرکاری نرخ سے زیادہ قیمت وصول کرے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے اور ایسی دکانوں کو سیل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس سال رمضان المبارک سے قبل حکومت کی جانب سے مٹن ڈیلروں کے ساتھ کوئی باضابطہ اجلاس منعقد نہیں کیا گیا، حالانکہ ماضی میں قیمتوں اور سپلائی کے حوالے سے باقاعدہ مشاورت کی جاتی تھی۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ بازاروں کی موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ صارفین کو سرکاری نرخ پر مٹن دستیاب ہو سکے اور ناجائز منافع خوری کا سلسلہ روکا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں