جموں،12 مارچ (یو این آئی) نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر بدھ کے روز جموں میں ایک شادی کی تقریب کے دوران ہونے والا قاتلانہ حملہ محض ایک بال برابر کے فاصلے سے ناکام ہوا۔ حملہ آور پستول سمیت انتہائی قریب تک پہنچنے میں کامیاب ہوا اور فائر بھی کیا، تاہم گولی کسی کو نہ لگی۔ اس حملے کے بعد صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک سنجیدہ سوال اٹھایا ہے کہ زیڈ سیکورٹی اور این ایس جی کی سخت حفاظتی پرت کے باوجود ایک شخص پستول لے کر فاروق عبداللہ کے نزدیک کیسے پہنچا۔؟
عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا:’اللہ مہربان ہے۔ میرے والد بڑی آفت سے بچے۔ تفصیلات ابھی پوری نہیں لیکن جو معلوم ہے وہ یہ کہ ایک شخص بھرے پستول سمیت بالکل نزدیک آ کر فائر کرنے میں کامیاب ہوا۔ صرف قریبی سکیورٹی ٹیم کی مداخلت نے گولی کے رخ کو موڑا اور حملے کو ناکام بنایا۔ ابھی بہت سے سوالات ہیں جن کے جواب نہیں ملے، خاص طور پر یہ کہ ایک زیڈ پلس پروٹیکشن والے سابق وزیراعلیٰ تک کوئی قاتل اتنی آسانی سے کیسے پہنچ گیا۔‘
وزیراعلیٰ کی جانب سے شیئر کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ حملہ آور انتہائی قریب آتا ہے اور فاروق عبداللہ پر پستول تان کر فائر کرتا ہے۔ فوٹیج میں سکیورٹی اہلکاروں کو چند ہی لمحوں میں حملہ آور پر جھپٹتے اور اسے قابو میں کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور نے پروگرام کے مقام کے آس پاس کچھ وقت گزارا اور جیسے ہی اسے موقع ملا، اس نے فائرنگ کی کوشش کی۔ حملے کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اسے دبوچ لیا اور اسلحہ بھی موقع سے برآمد ہوا۔
پولیس نے حملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے واقعے کی اعلیٰ سطحی تفتیش شروع کر دی ہے اور ہر زاویے سے جانچ کی جا رہی ہے کہ حفاظتی دائرے میں اتنی بڑی خامی کیسے پیدا ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی ویڈیو فوٹیج اور گواہوں کے بیانات بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ حفاظتی انتظامات پر بڑا سوال کھڑا کرتا ہے اور اس حوالے سے فوری اصلاحی اقدامات ضروری ہیں۔
مزید تفصیلات تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔
0
