نئی دہلی، 25 مارچ (یو این آئی) لوک سبھا میں بدھ کے روز “غیر ملکی عطیات کا ریگولیشن (ترمیمی) بل 2026” پیش کیا گیا، جو غیر ملکی فنڈنگ کو شفاف اور جوابدہ بنائے گا۔مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیا نند رائے نے ایوان میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ضروری ترمیمی بل ہے جو خدمت، شفافیت اور ملک کے مفاد میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکی چندہ (ریگولیشن) ایکٹ 2010 میں ترمیم کا مقصد ایک ایسا ڈھانچہ تیار کرنا ہے جو شفاف اور ذمہ دارانہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ نامزد اتھارٹی کو دیے گئے اختیارات قواعد کے تابع ہیں اور اس بل کا مقصد غیر ملکی عطیات کے عمل کو واضح بنانا ہے۔ جو بھی تنظیم ملک کے قانون اور جذبے کے مطابق کام کرے گی، یہ بل اسے نہیں روکے گا، البتہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ یہ بل صرف ان لوگوں کے لیے “خطرناک” ثابت ہو گا جن کی نیت میں کھوٹ ہے یا جو اپنی تنظیموں کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔اس سے قبل کانگریس کے منیش تیواری نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ضروری قانون سازی کی شرائط شامل نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پارلیمنٹ کے اختیارات بھی کمزور ہوتے ہیں، اس لیے اس بل کو اس موجودہ شکل میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔کانگریس کے ہی ایڈوکیٹ گووال کاگدا پڈوی نے اعتراض کیا کہ یہ بل مرکز کو ضرورت سے زیادہ اختیارات دیتا ہے اور آئین کی دفعہ 19، 25 اور 26 (آزادیِ اظہار اور مذہبی آزادی) کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل نے بھی بل کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ۔
