0

لوگوں کے ساتھ جتنے بھی وعدے کئے گئے انہیں ہر حال میں پورا کیا جائے گا، بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا امکان نہیں: عمر عبداللہ

سری نگر،18اکتوبر(یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز واضح کیا کہ ریاستی کابینہ میں توسیع کا عمل ضمنی انتخابات کے بعد انجام دیا جائے گا، اور ساتھ ہی انہوں نے ایک بار پھر یہ دوٹوک اعلان کیا کہ ان کی جماعت کا بی جے پی کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتحاد کا کوئی امکان نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سرینگر میں اپنی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران متعدد اہم امور پر وضاحت دی، جن میں ریاستی درجہ کی بحالی، بجلی کے اسمارٹ میٹروں کی تنصیب اور کابینہ کی تشکیل نو جیسے معاملات شامل تھے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت اس وقت کچھ آئینی پابندیوں کے تحت کام کر رہی ہے کیونکہ ایک مرکزی زیرانتظام خطہ ہونے کی وجہ سے وزراء کی تعداد محدود رکھی گئی ہے۔
انہوں نے کہا،’یہ تاثر غلط ہے کہ جب تک کوئی شخص وزیر نہیں بنتا، وہ اپنے علاقے کے لیے کام نہیں کر سکتا۔ میں صرف گاندربل کا وزیر اعلیٰ نہیں، بلکہ پورے جموں و کشمیر کا وزیر اعلیٰ ہوں۔ اسی طرح، سکینہ بیگم صرف نورآباد کی وزیر نہیں بلکہ پوری ریاست کی خدمت کر رہی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں چند مزید وزراء کو شامل کرنے کے امکانات موجود ہیں:’یہ معاملہ میری سرگرم غوروفکر میں ہے۔ جیسے ہی ضمنی انتخابات مکمل ہوں گے، ہم کابینہ میں توسیع کے فیصلے پر عملدرآمد کریں گے۔‘
ریاستی درجہ کی بحالی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ اس مسئلے کو پہلگام واقعہ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔نہ تو منتخب حکومت اس واقعہ کی ذمہ دار تھی اور نہ ہی عام عوام نے اس کی حمایت کی۔ جو لوگ حملے میں ملوث تھے، وہ جموں و کشمیر کے نہیں تھے۔ اس لیے ریاستی درجہ کو پہلگام سے جوڑنا سراسر غلط ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کو اپنے وعدوں میں دیانتدار ہونا چاہیے:’بی جے پی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ریاستی درجہ صرف اسی وقت بحال ہوگا جب وہ جموں و کشمیر میں اقتدار میں آئے گی۔ اگر ان کی نیت یہی ہے، تو انہیں کھل کر عوام کے سامنے کہنا چاہیے کہ جب تک غیر بی جے پی حکومت رہے گی، ریاستی درجہ بحال نہیں کیا جائے گا۔ پھر عوام خود فیصلہ کریں گے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔‘
عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کسی بھی صورت میں بی جے پی سے ہاتھ نہیں ملائے گی:2015’ میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے غیرضروری اتحاد نے جموں و کشمیر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ آج تک ہم اس کے اثرات بھگت رہے ہیں۔ میں وہی غلطی دہرانے والا نہیں ہوں جو دوسروں نے کی تھی۔‘
وزیر اعلیٰ نے بجلی کے اسمارٹ میٹروں سے متعلق عوامی خدشات پر بھی وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے منشور میں کہیں بھی اسمارٹ میٹر ختم کرنے کا وعدہ نہیں کیا گیا۔ہم نے وعدہ کیا تھا کہ عوام کو 200 مفت یونٹس فراہم کیے جائیں گے، لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب اسمارٹ میٹر نصب ہوں تاکہ صارفین کے بجلی کے استعمال کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ اگر میٹر نہیں ہوں گے تو وعدہ کیسے پورا ہو گا؟
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد عوام کو بہتر بجلی فراہمی اور کم بل دینا ہے:’غریب صارفین کے لوڈ کا درست اندازہ ہونے کے بعد ان کے بجلی بلوں میں واضح کمی آئی ہے۔ ہمارا مقصد ہے کہ غریبوں کو مفت یونٹس ملیں، بل کم ہوں، اور بجلی کی فراہمی بہتر بنے۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے اپنے منشور میں عوام سے جو وعدے کیے ہیں، وہ پانچ سالہ مدت کے دوران پورے کیے جائیں گے۔
ان کے مطابق کچھ مشکلات ضرور ہیں، لیکن ہم نے جو وعدے کیے تھے، وہ سب اپنی مدت کے دوران پورے ہوں گے۔ چاہے وہ 12 گیس سلنڈر ہوں یا راشن کوٹے میں اضافہ، یہ سب منصوبے مرحلہ وار نافذ کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے بجلی کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے سخت محنت کی ہے:’سیلاب کے دوران بھی ہم نے جلد از جلد بجلی بحال کی۔ ہمارا مقصد عوام کو بہتر سہولیات دینا ہے۔‘
ایک علیحدہ سوال کے جواب میں، عمر عبداللہ نے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ اس وقت تک اسے عوامی نہیں کیا جا سکتا جب تک لیفٹیننٹ گورنر اس کی منظوری نہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ غیرقانونی ہوگا اگر ہم رپورٹ کو اس وقت ظاہر کریں جب وہ ابھی لیفٹیننٹ گورنر کے پاس بھی نہیں پہنچی۔ یہ ایک باقاعدہ عمل ہے، جو مکمل ہونے کے بعد ہی عوام کے سامنے آئے گا۔ کوئی چیز چھپائی نہیں جا رہی، صرف قانونی طریقہ کار کی پابندی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کسی دباؤ میں کام نہیں کرے گی:’میں وہ آخری شخص ہوں جس پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ حکومتیں طریقۂ کار کے تحت چلتی ہیں، کسی کے کہنے پر نہیں۔ جیسے ہی لیفٹیننٹ گورنر منظوری دیں گے، رپورٹ عوام کے سامنے رکھی جائے گی۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں