0

مغربی ایشیا کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران سے مل کر نمٹنا ہے: مودی

نئی دہلی، 23 مارچ (یو این آئی) مغربی ایشیا کے بحران کو سنگین تشویش کا معاملہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ خام تیل اور گیس کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اسی خطے سے پورا ہوتا ہے، اس لیے اس کا ہندوستان پر اثر فطری ہے، لیکن اس چیلنج کا مل جل کر اور اتحاد کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

لوک سبھا میں مغربی ایشیا کی صورت حال پر بیان دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ اس بحران کی وجہ سے ہندوستان کی تشویش فطری ہے، لیکن ہندوستان جانتا ہے کہ متحد رہ کر چیلنجوں کا سامنا کیسے کرنا ہے۔ ہم نے کورونا بحران کے دوران بھی متحد رہ کر ایسے ہی چیلنج کا سامنا کیا تھا اور اب اس چیلنج کا بھی اسی اتحاد سے مقابلہ کرنا ہو گا مغربی ایشیائی ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں کی حفاظت کی یقین دہانی کراتے ہوئے، انہوں نے کہا، “ان ممالک میں ہمارے مشن ہندوستانیوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ متاثرہ ممالک میں ہمارے مشن مسلسل ہندوستانیوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ چاہے وہاں کام کرنے والے ہندوستانی ہوں یا وہاں گئے ہوئے سیاح، ہر کسی کو ہر ممکن مدد فراہم کی جارہی ہے۔ ہندوستانی مشن باقاعدگی سے ایڈوائزری جاری کر رہے ہیں۔ ہندوستان اوردیگر متاثرہ ممالک میں 24/7 ہیلپ لائنز اور ہنگامی ہیلپ لائنز قائم کی گئی ہیں۔ ان کے ذریعے تمام متاثرہ لوگوں کو تازہ ترین معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا، “اس بحران کے وقت میں ہندوستان اور بیرون ملک ہندوستانیوں کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ اس جنگ کے آغاز سے ہی متاثرہ ممالک میں رہنے والے ہر ہندوستانی کو مدد فراہم کی گئی ہے۔ میں نے مغربی ایشیائی ممالک کے بیشتر سربراہان مملکت کے ساتھ فون پر دو بار بات کی ہے۔ سبھی نے ہندوستانیوں کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ تنازعہ کے دوران کچھ لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔”

جنگ زدہ اور تنازعات سے متاثرہ ممالک کے ساتھ ہندوستان کے وسیع تجارتی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، “جس خطہ میں تنازعہ جاری ہے، وہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ہماری تجارت کا ایک اہم راستہ بھی ہے۔ یہ خطہ خاص طور پر خام تیل اور گیس کی ضروریات کے لیے ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کے علاوہ یہ خطہ ہمارے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی کام کرتے ہیں۔ وہاں کمرشل جہاز چلتے ہیں۔ ہندستانی عملے کے ارکان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ ان مختلف وجوہات کی بناء پر ہندوستان کی تشویش فطری طور پر زیادہ ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے اس بحران پر ہماری ایک آواز اور اتفاق رائے دنیا تک پہنچے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں