نئی دہلی، 18 فروری (یو این آئی) کیا وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب طارق رحمان کو مع اہل خانہ ہندوستان کے دورے کی حالیہ دعوت دونوں پڑوسیوں کے درمیان تناؤ کو کم کر پائے گی؟
مسٹر طارق رحمان کو تحریر کردہ ایک مکتوب میں وزیراعظم نریندر مودی نے بی این پی (بی این پی) لیڈر کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے باہمی مفاد پر مبنی کثیر جہتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دو قریبی پڑوسیوں کے طور پر دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی ہے، جس کی بنیاد مشترکہ تاریخ، ثقافتی رشتوں اور امن و خوشحالی کے لیے عوامی امنگوں پر استوار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی ترجیحات میں دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی “مستقبل کے تعاون” کے لیے رہنما اصول ثابت ہوگی۔
وزیر اعظم مودی نے طارق رحمان کو انتخابی جیت پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے بنگلہ دیش کے عوام کی جانب سے ان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار قرار دیا۔ واضح رہے کہ طارق رحمان نے منگل کو وزیر اعظم کے طور پر حلف لیا، جس سے محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت کے 18 ماہ کے غیر یقینی دور کے بعد ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ہوا ہے۔ بی این پی نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ زمام اقتدار سنبھالی ہے۔
اگرچہ ہندوستان نے 1971 میں بنگلہ دیش کو پاکستان سے آزادی دلانے میں مدد کی تھی، لیکن بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب کے قتل کے بعد سے کئی مسائل پر تنازعات رہے، جن میں دریا کے پانی کی تقسیم ، اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کے ساتھ ساتھ جمہوریت کا فقدان اور جیل میں مجیب نواز رہنماؤں کا قتل شامل ہے۔
حالیہ عرصے میں طلبہ تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل ہونے والی شیخ حسینہ کو ہندوستان میں پناہ دینے کا معاملہ محمد یونس کی عبوری حکومت کے دوران کشیدگی کی بڑی وجہ بنا۔ شیخ حسینہ 5 اگست 2024 کو ڈھاکہ میں بغاوت کے بعد ایک فوجی طیارے کے ذریعے غازی آباد کے ہنڈن ایئربیس پہنچی تھیں۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے بارہا ہندوستان سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان پر 2024 کے احتجاج کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قتل کے مقدمات چلائے جا سکیں، لیکن ہندوستان نے سفارتی وجوہات کی بنا پر تاحال اس پر کوئی رائے زنی نہیں کی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں ہمسایہ ممالک کے رہنماؤں کو پناہ دینے کی متعدد مثالیں موجود رہی ہیں، جن میں دلائی لامہ اور افغانستان کے سابق صدر محمد نجیب اللہ کے اہلِ خانہ سمیت دیگر شخصیات شامل ہیں۔
محمد یونس کی حکومت کے دوران وزراء کے ہندوستان مخالف بیانات اور یونس کے چین میں دیے گئے اس بیان نے کہ ‘بنگلہ دیش ہندوستان کے شمال مشرق کے لیے سمندر تک رسائی کا راستہ ہے’، تلخیوں میں اضافہ کیا۔ تاہم، اب وزیراعظم مودی کی دعوت نے تناؤ میں کمی کا اشارہ دیا ہے۔
وزیر اعظم مودی کی جانب سے “مستقبل میں تعاون” پر زور دیے جانے کے بعد توقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت (جو 2024-25 میں تقریباً 13.5 بلین ڈالر تھی) میں مزید اضافہ ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان روایتی طور پر بنگلہ دیش کو اپنی درآمدات کے مقابلے کہیں زیادہ برآمدات کرتا رہا ہے، جس سے پیدا ہونے والا تجارتی خسارہ بنگلہ دیش کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا ہے۔
0
