0

میں پہلے سمجھا کہ یہ پٹاخوں کی آواز ہے: ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا حملے پر رد عمل

جموں، 12 مارچ (یو این آئی) نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے گذشتہ شام ان پر ہوئے قاتلانہ حملے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فائرنگ کی آواز کو ابتدا میں پٹاخوں کی آواز سمجھا۔
انہوں نے کہا: ‘میں حملہ آور کو بالکل نہیں جانتا ہوں اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ اس کی کیا رنجش تھی’۔
موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
واضح رہے کہ جموں کے گریٹر کیلاش علاقے میں بدھ کی شام ایک شادی کی تقریب کے دوران ایک شخص نے نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پستول سے فائرنگ کی جس میں وہ بال بال بچ گئے۔
اس واقعے کے متعلق رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا: ‘میں شادی میں گیا ہوا تھا جب دلہن آئی تو میں نے ان سے اجازت لی اور گھر کی طرف چلنے لگا، میں باہر نکل ہی رہا تھا کہ میں نے پٹاخے کی آواز سنی میں نے سوچا کہ شادی کی تقریب ہے تو کسی نے پٹاخہ چھوڑا ہوگا’۔
ان کا کہنا تھا: ‘مجھے جلدی گاڑی میں بٹھایا گیا اور پھر وہاں کہا گیا کہ کسی آدمی نے پستول سے دو گولیاں چلائیں لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کا ہاتھ پکڑ کر اوپر کی طرف کیا اور بعد میں اسے پستول چھین لیا گیا’۔
حملہ آور کے بارے میں پوچھے جانے پر سابق وزیر اعلیٰ نے کہا: ‘نہ میں اس شخص کو جانتا ہوں اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ اس کا مقصد کیا تھا اور اس کی کیا رنجش ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘میں نے کسی کے ساتھ کبھی برا نہیں کیا ہے بلکہ ہمیشہ اپنے حامی سے زیادہ اپنے مخالف کے مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں نے ہمیشہ لوگوں سے محبت کی ہے، کبھی کسی کے بارے میں دل میں نفرت نہیں پیدا کی ہے’۔
سکیورٹی کوتاہی کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا: ‘سکیورٹی کوتاہی کہنا ایک بہت بڑا جملہ ہے، لیکن اس تقریب میں بڑے بڑے لوگ موجود تھے، پولیس کو خیال رکھنا چاہئے تھا، پولیس کا کوئی انتظام نہیں تھا’۔
انہوں نے کہا: ‘اللہ کا شکر ہے کہ میں بچ گیا، میری جو ذاتی سکیورٹی تھی اور جو وہاں دیگر وزرا اور ارکان اسمبلی کی سکیورٹی تھی، انہوں نے ہمت کی اور میں بچ گیا’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں