0

نائب صدر رادھا کرشنن کے دورے سے قبل کشمیر میں فل پروف سکیورٹی انتظامات

سری نگر،24فروری(یو این آئی) نائب صدرہند سی پی رادھا کرشنن کے پہلے دورے کشمیر سے قبل سیکورٹی اداروں نے پوری وادی، خصوصاً سری نگر اور اس کے گردونواح میں، انتہائی سخت حفاظتی انتظامات نافذ کر دیے ہیں۔ 26 فروری کو کشمیر یونیورسٹی میں ہونے والے 21ویں کنووکیشن میں نائب صدر کی شمولیت کے پیش نظر انتظامیہ نے ایک جامع، کثیر سطحی سیکیورٹی گرڈ ترتیب دیا ہے، جس کے تحت شہر کے بیشتر حساس علاقوں کو حفاظتی حصار میں لے لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یونیورسٹی کے حضرت بل کیمپس کے اردگرد سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں ایڈوانس کیمروں، ناکہ بندیوں، چیکنگ اور فلیگ مارچز شامل ہیں۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر خصوصی چیک پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں جہاں گاڑیوں اور مسافروں کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے بتایا کہ اس بار حفاظتی انتظامات انتہائی حساس نوعیت کے ہیں، کیونکہ یہ نائب صدر کا پہلا دورہ ہے اور کسی بھی سیکورٹی چیلنج کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
پولیس اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وادی کے مختلف اضلاع میں بھی سیکیورٹی کو الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے، جبکہ اہم تنصیبات، سرکاری عمارتوں اور شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط کرنے اور زمینی سطح پر اطلاعات جمع کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، سیکورٹی ادارے گزشتہ کئی دنوں سے وادی میں اچانک چیکنگ، سرچ آپریشنز، اور کسی بھی صورتحال میں فوری کارروائی کے لیے کوئیک ری ایکشن ٹیموں کی تعیناتی جیسے اقدامات پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔ شہر بھر میں سی سی ٹی وی سرولنس کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے پولیس کنٹرول روم میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں اس دورے کے حوالے سے پوری سیکیورٹی میکانزم کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تمام حساس علاقوں کی نشاندہی کی گئی اور متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی کہ ایس او پیز کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے۔ برڈی نے اس بات پر زور دیا کہ شہری علاقوں میں رات اور دن کی پٹرولنگ میں اضافہ کیا جائے اور یونیورسٹی کے اطراف موجود حساس پوائنٹس پر نگرانی مزید سخت کی جائے۔
دریں اثنا، کشمیر یونیورسٹی میں 21 واں کنووکیشن ایک بڑے تعلیمی اور ادبی ایونٹ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس اہم تقریب میں 59,558 ڈگریاں تقسیم کی جائیں گی، جن میں 44,910 انڈر گریجویٹ، 13,545 پوسٹ گریجویٹ، 461 ایم ڈی/ایم ایس، 4 ایم سی ایچ، 18 ایم فل اور 620 پی ایچ ڈی ڈگریاں شامل ہیں۔ اس اعتبار سے یہ کشمیر یونیورسٹی کی تاریخ کے بڑے کنووکیشنز میں سے ایک ہے۔
نائب صدر سی پی رادھا کرشنن کنووکیشن میں چیف گیسٹ کے طور پر شرکت کریں گے، جہاں وہ اہم خطاب بھی کریں گے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، جو کہ کشمیر یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، تقریب کی صدارت کریں گے جبکہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ بطور گیسٹ آف آنر اس میں شرکت کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں