0

نوشہرہ–راجوری سیکٹر میں مشتبہ پاکستانی ڈرونز کی پرواز، فوج کی جوابی کارروائی

جموں،12جنوری(یو این آئی) لائن آف کنٹرول سے متصل نوشہرہ–راجوری سیکٹر میں اتوار کی دیر شام متعدد ڈرونز کی مشتبہ نقل و حرکت دیکھی گئی، جس کے بعد فوج نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ دفاعی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈرونز پاکستان کی جانب سے اڑائے گئے تھے اور وہ ایل او سی کے متعدد علاقوں میں سرحد کے قریب منڈلاتے رہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سب سے پہلے جنگر اور کلال علاقوں میں ڈرون سرگرمی ریکارڈ کی گئی، جس کے فوراً بعد بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے فضائی نگرانی کے اس مشکوک عمل کو ناکام بنایا۔ ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ تقریباً شام 7 بج کر 28 منٹ پر سرحد کے قریب ڈرون کی حرکت محسوس ہوئی۔ فوج نے فوراً فائرنگ کی اور پوری رات علاقے میں گولیوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم فوج کے شکر گزار ہیں کہ ان کی مستعدی کے باعث ہم محفوظ ہیں۔
مشتبہ ڈرون سرگرمی کے ایک دن قبل بھی سرحدی علاقوں میں چوکس نگرانی جاری تھی۔ ہفتہ کے روز بی ایس ایف اور جموں و کشمیر پولیس نے سانبہ ضلع کے گاؤں پلوڑہ میں مشترکہ تلاشی کارروائی کے دوران ایک بڑا اسلحہ و گولہ بارود کا ذخیرہ برآمد کیا تھا، جو بظاہر سرحد پار سے ڈرون کے ذریعے پھینکا گیا تھا۔
برآمد شدہ اسلحہ میں چینی ساختہ 9 ایم ایم پستول، دو میگزین اور دیگر قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ اس کے علاوہ 16 زندہ کارتوس بھی پیکٹ سے ملے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ دشمن عناصر سرحد کے راستے اسلحہ و گولہ بارود منتقل کرنے کی کوششیں بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سیکورٹی ایجنسیاں نوشہرہ، راجوری، سانبہ اور بین الاقوامی سرحد کے دیگر حساس علاقوں میں الرٹ ہیں، جب کہ تلاشی کارروائیاں، گشت اور نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں سرگرم دہشت گرد گروپس ڈرونز کے ذریعے اسلحہ، آئی ای ڈی یا نقدی منتقل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے ہر مشکوک سرگرمی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں