0

واجپئی، منموہن سنگھ، اڈوانی سمیت کئی رہنماوں سے خلوص نیت کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی: میر واعظ

سری نگر،2 جنوری(یو این آئی) سال 2026 کے پہلے جمعے کے موقع پر بھی میرواعظ کشمیر مولانا عمر فاروق کو گھر میں نظر بند رکھا گیا، جس کے باعث وہ حسبِ روایت جامع مسجد سرینگر میں جمعے کا خطبہ نہیں دے سکے۔ میرواعظ نے اس پس منظر میں سوشل میڈیا کے ذریعے عوام سے خطاب کرتے ہوئے پچھلے برس کے المناک واقعات، جاری پابندیوں، سیاسی و سماجی گھٹن اور کشمیر کے مستقبل سے متعلق اپنے مؤقف کو مفصل انداز میں بیان کیا۔
اپنے خطاب میں میرواعظ نے کہا کہ سال 2025 کشمیر کے لیے غم، خوف اور غیر یقینی صورتحال سے بھرپور رہا۔ انہوں نے پہلگام کے المناک سانحہ کو گہرے صدمے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے نے پورے خطے میں خوف اور بے چینی کو بڑھا دیا۔ اس کے فوراً بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اور جنگ نے خطے میں امن کی کمزوری اور تنازعہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا۔
میرواعظ نے کہا کہ 2019 میں یکطرفہ فیصلوں کے باوجود کشمیر کا تنازعہ زندہ ہے اور خطے کو مسلسل غیر یقینی صورتحال میں رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جنگیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ صرف وقفہ کر دی جاتی ہیں، جبکہ بات چیت کی بات کوئی سننے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے نئی دہلی میں سال کے آخر میں ہونے والے دھماکے پر بھی افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد کشمیریوں کے خلاف شک وشبہات اور حملوں میں اضافہ ہوا، جس سے وادی اور دہلی کے درمیان اعتماد مزید کمزور پڑ گیا ہے۔
اپنی مسلسل نظر بندی کا ذکر کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ پچھلے سال انہیں 14 جمعوں میں نظر بند رکھا گیا اور یہ غیر قانونی پابندیاں اب ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پریس کانفرنس کی بھی اجازت نہیں، یہاں تک کہ جامع مسجد کے منبر تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اور حریت کی دیگر اکائیوں پر یو اے پی اے کے تحت پابندی کے بعد اظہارِ رائے کی ہر گنجائش ختم کر دی گئی ہے، جبکہ اکثریتی مقامی میڈیا بھی ان کی آواز کو نشر کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اسی مجبوری کے تحت انہیں اپنا سوشل میڈیا پروفائل تبدیل کرنا پڑا تاکہ پلیٹ فارم مکمل طور پر بند نہ ہو جائے۔
اپنے نظریات میں کسی قسم کی تبدیلی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا، ’میں نے اپنے والد کی شہادت کے دن سے آج تک کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، تو اب کیوں کروں گا؟ میری اپنے لوگوں کے ساتھ کمٹمنٹ ناقابلِ تبدیل ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ میرواعظ ہونے کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ امن، بھائی چارے اور مفاہمت کی آواز بننا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے واجپائی، منموہن سنگھ اور ایل کے ایڈوانی سمیت مختلف ادوار کے رہنماؤں کے ساتھ خلوص کے ساتھ بات چیت کی کوشش کی اور آج بھی امن کا راستہ یہی سمجھتے ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حقیقی اور دیرپا امن بالکل ممکن ہے بشرطیکہ سیاسی قیادت بات چیت کو اپنائے۔ انہوں نے واجپائی کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت اور جمہوریت کے دائرے میں بات چیت کی جائے تو امن کو بہترین موقع ملتا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ وہ عوام کے حقوق، احساسات اور امن کے حق میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں