0

وادی میں مہا شیو راتری عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی

دہایوں کے فاصلوں نے بھی ’ہیرتھ ‘کی منفرد روایات کو زندہ رکھا،وٹک پوجا اور سلام کے دوران گہما گہمی
سرینگر//15فروری/یو این ایس / کشمیر میں مہا شیو راتری کا تہوار روایتی جوش و خروش اور مذہبی عقیدت کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر کشمیری پنڈت برادری سمیت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی تہوار کی خوشیوں میں شرکت کی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی روشن مثال پیش کی۔یو این ایس کے مطابق وادی کے مختلف علاقوں خصوصاً سرینگر، اننت ناگ، بارہمولہ اور گاندربل میں مندروں کو برقی قمقموں اور پھولوں سے سجایا گیا۔ عقیدت مندوں نے صبح سویرے مندروں کا رخ کیا اور بھگوان شیو کی پوجا اَرچنا کی۔ کئی مقامات پر خصوصی دعائیہ تقاریب اور مذہبی رسومات کا اہتمام کیا گیا جہاں ملکی و عالمی امن کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔کشمیری پنڈت برادری کے لیے یہ تہوار خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور اسے مقامی طور پر “ہیرا تھ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس موقع پر گھروں میں خصوصی پکوان تیار کیے گئے اور رشتہ داروں میں تحائف کا تبادلہ کیا گیا۔انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی کے معقول انتظامات کیے گئے تھے تاکہ تہوار پرامن ماحول میں منعقد ہو سکے۔ مختلف سماجی و سیاسی شخصیات نے بھی برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے بھائی چارے اور باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا۔مہا شیو راتری کی تقریبات نے ایک بار پھر وادی کی قدیم تہذیبی روایات اور مذہبی ہم آہنگی کی خوبصورت تصویر پیش کی۔یو این ایس کے مطابق سرینگر// وادی سے کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کے بعد بھی ہیرتھ(مہا شیو راتری) کا تہوار کا رواج آج بھی تبدیل نہیں ہوا ۔ گردش ایام نے اگر چہ پنڈتوں کو جموں سمیت دیگر ریاستوں میںبود و باش کرایا تاہم آج بھی انہوں نے کشمیری رواج کے مطابق ہیرتھ منانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ہندوستان میں مہاشیوراتری کا تہوار ہندﺅں کا انتہائی اہم اور مقدس تہوار ہے لیکن کشمیری پنڈتوں میں ہیرتھ( شیو راتری) کو نہ صرف غیر معمولی اہمیت حاصل ہے بلکہ اس تہوار سے کشمیر کی پنڈت برادری اپنی تہذیبی و ثقافتی اقدار اور مسلم طبقے کے ساتھ ملنساری کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ کشمیری پنڈت دیگر ہندﺅں کے مقابلہ میں اس تہوار کو مختلف طریقے سے مناتے ہیں ۔ اس تہوار میں کشمیری کی روایت بھی خوب تر انداز میں چھلکتی ہے۔کشمیری پنڈتوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے مہاشیوراتری کے تہوار کے حوالے سے بتایا کہ بھارت کے مقابلے میں کشمیر میں ہیرتھ کی روایت مختلف ہے ۔ان کا کہناتھا کہ پورے بھارت کے مقابلے میں ہیرتھ( مہاشیوراتری ) پرمندروںکے بجائے گھروںمیں پوجاپاٹھ کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے ۔ کشمیر میں اس تہوار کی مناسبت سے کشمیری پنڈت برادری خصوصی ”وٹک پوجا “ کرتے ہیں اور اس میں دیگر پوجا کے چیزوں کے علاوہ اخروٹوں کو بھی پوجا میں رکھا جاتا ہے ۔ وٹک پوجا میں خصوصی مسالحہ جات کا استعمال میں لایا جاتا ہے جو صرف مخصوص دکانوں پر دستیاب رہتا ہیں۔ ان اخروٹوں کو کئی دن قبل پانی میں رکھ کر تر کیا جاتا ہے اور بعد میں پرشاد (تبرک)کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تہوار کی مناسبت سے کشمیری پنڈت برادری کے پکوانوںمیں بھی الگ مٹھاس اور ذائقہ پایا جاتا ہے۔ اس دن وادی کے پنڈت خصوصی پکوان تیار کرتے ہیں ۔ ایک بزرگ کشمیری پنڈت بدری ناتھ جیلخانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 70کی دہائی تک کشمیر پنڈت آسمانی پرندوں( آکاش پنچھیوں) ،آبی پرندوں( جل پنچھیوں) اور بھیڑ بکریوں کا گوشت خاص طور پر پکاتے تھے تاہم وقت کی کروٹ نے اس میں بھی تبدیلی لائی اور اب کشمیری پنڈت خاص طور پر اس روز مچھلی اور کشمیری ندروکے پکوان کا زوق وشوق کے ساتھ ذائقہ لیتے ہیں ۔ ہیرتھ کے دوسرے روز کشمیر میں”سلام“ کا دن منایا جاتا ہے اور اس دن مسلمان اور دیگر مذاہب سے وابستہ لوگ پنڈتوں کے گھر جاکر انہیں مبارکبادی پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ” پنڈت برادری صرف ان پکوانوں کا ذائقہ اکیلے نہیں لیتے تھے بلکہ اس میں مسلم برادری کو بھی شریک کیا جاتا تھا اور یہ روایت ہنوز ابھی بھی وادی میں ذوق و شوق کے ساتھ جاری ہے ۔ اس سلسلے میں ایک کشمیر پنڈت جواہر لال پارئمو(جوا لال) نے بتایا کہ شادی شدہ بیٹیوںکو خاص طوراپنے میکے میں دعوت دی جاتی ہے اور انہیں کشمیری روایت کے مطابق سسرال واپس جانے کے موقعہ پر بطورکانگڑی ، نمک اور پوجا میں خاص طور پر رکھے گئے اخروٹ تحفے کے طور پر دیا جاتا ہے ہے ۔ انہوںنے کہا کہ” ہار“ کا استعمال کشمیری پنڈت نوجوان اور بچے کھیل کود میں بھی استعمال کرتے تھے تاہم نامساعد حالات کی وجہ سے اب یہ روایت فوت ہوچکی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بیرون ریاست اس روز ہندﺅ برادری سے وابستہ لوگ شیو مندروں میں جاکر حاضری دیتے ہیں اور پوجا پھاٹ کا اہتمام کرتے ہیں تاہم کشمیری پنڈت گھروں میں ہی اس پوجا کو انجام دیتے ہیں۔ جموں میں رہائش سوم ناتھ نامی ایک کشمیری پنڈت نے بتایا کہ نقل مکانی کرنے کے بعد بھی انہوں نے جموں میں اپنی روایت جاری رکھیں اور کشمیری روایت کے مطابق ہی وہ پوجا کرتے ہیں اور ہیرتھ مناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ نوجوان نسل کے ہیرتھ منانے میں کچھ تبدیلی آئی ہیں تاہم گھروں میں آج بھی وہ اسی انداز اور تقدس کے ساتھ ہیرتھ مناتے ہیں جس طرح وادی میں مناتے ہیں۔ سوم ناتھ کا کہنا ہے ” گردش ایام نے بھلے ہی ہمیں اپنے بھائیوں سے دور کیا ہو ،مگر آج بھی وادی سے ہیرتھ کے دوسرے روز سلام کے دن وادی سے دوست اور پڑوسی جموں سلام کیلئے آتے ہیں اور مبارکباد پیش کرتے ہیں، اوراپنے ساتھ کشمیری ندرو لانا نہیںبھولتے“۔انہوںنے جذباتی انداز میں کہا کہ وادی میں ہیرتھ منانے کا مزاہ اور اندازہ ہی کچھ اور تھا کیونکہ سادگی اور تقدس کے ساتھ ہمسایﺅں کے ساتھ یہ دن منانے کا معنیٰ ہی کچھ اور رکھتا تھا۔انکا کہنا تھا کہ ماضی کی ہیرتھ کو یاد کرکے وہ آج بھی آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں