سری نگر،28فروری(یو این آئی) کرکٹ کی دنیا میں آج جموں و کشمیر کا نام جس شان سے لیا جا رہا ہے، اس میں سب سے بڑا حصہ اُس نوجوان گیند باز کا ہے جسے ریاست میں محبت سے ’ورمول واریئر‘ کہا جاتا ہے—یعنی عاقب نبی ۔ رنجی ٹرافی کے فائنل میں ان کی شاندار کارکردگی نے نہ صرف میچ کا رخ موڑ دیا بلکہ جموں و کشمیر کو اپنے پہلے رانجی ٹائٹل تک پہنچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
ملک کے معروف گھریلو ٹورنامنٹ رنجی ٹرافی کے فائنل میں جموں و کشمیر کی ٹیم کو دی جانے والی 584 رنز کی برتری جتنی اہم تھی، اتنا ہی ضروری تھا کہ مخالف ٹیم کرناٹک کرکٹ ٹٰیم کو کم اسکور پر روکا جائے—اور یہ ذمہ داری جس کندھے نے اٹھائی، وہ تھا عاقب نبی کا۔
عاقب نبی نے پہلی ہی اسپیل میں وہ کر دکھایا جو کسی بڑے فائنل میں تجربہ کار بولرز کے لیے بھی چیلنج ہوتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی شہرت یافتہ بلے باز کے ایل راہل کو ایک بہترین آؤٹ سوئنگ گیند پر کیچ آؤٹ کرایا۔ یہ وکٹ نہ صرف اسکور بورڈ پر اثر ڈالنے والی تھی بلکہ کرناٹک کے اعتماد کو جھنجھوڑ دینے والی بھی تھی۔
عاقب نے بعد ازاں کرونا نائر اور آر سمرن کی وکٹیں حاصل کر کے کرناٹک کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔ ان کی لائن اور لینتھ، سیم پوزیشن اور سوئنگ نے کرناٹک کے بلے بازوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
میچ کے اہم ترین لمحوں میں سے ایک وہ تھا جب عاقب نبی نے ایک کلاسک آؤٹ سوئنگ گیند پر اسٹمپ اڑا کر کرونا نائر کو بولڈ کیا۔ عاقب نے خود اسے اپنی ’بہترین گیند‘ قرار دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب کرناٹک کے ڈریسنگ روم میں خاموشی چھا گئی اور جموں و کشمیر کی امیدیں نئی توانائی کے ساتھ جاگ اٹھیں۔
کرناٹک کے واحد مضبوط جواب دینے والے بلے باز مایانک اگروال تھے جنہوں نے 160 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی۔ لیکن عاقب نے ان کے سفر کا اختتام بھی ایک شاندار ایل بی ڈبلیو کے ساتھ کیا، جس کے ساتھ ہی کرناٹک کی امیدیں تقریباً دم توڑ گئیں۔
عاقب نبی نے نہ صرف فائنل میں پانچ وکٹیں حاصل کیں بلکہ پورے سیزن میں 60 وکٹیں لے کر رانجی ٹرافی 2025–26 کے سب سے کامیاب گیند باز بن گئے۔ یہ اعزاز کسی بھی تیز گیند باز کے لیے غیر معمولی کامیابی ہے۔ ان کی رفتار، سوئنگ اور ذہانت نے انہیں حقیقی معنوں میں قومی سطح کے ٹیلنٹ کے طور پر ابھارا ہے۔
عاقب نبی شمالی کشمیر کے علاقے ورمول کے رہنے والے ہیں، اور لوگ انہیں اسی نسبت سے’ورمول واریئر‘کہتے ہیں۔ اس نوجوان نے جس اعتماد اور جرات کے ساتھ فائنل جیسے اعصاب شکن مقابلے میں گیند بازی کی، وہ صرف ایک بہترین اسپورٹس مین ہی نہیں بلکہ ایک ذہین اسٹرائک بولر کی پہچان بھی ہے۔
کیونکہ اگر جموں و کشمیر پہلی اننگز میں برتری حاصل نہ کرتا، تو ٹائٹل جیتنے کا امکان کم ہو جاتا۔ اور یہ برتری، یہ موقع—یہ سب عاقب کی تباہ کن بولنگ نے فراہم کیا۔
0
