0

پرامن احتجاج کو طاقت سے دبانا جمہوری اقدار کے منافی: میر واعظ عمر فاروق

سری نگر،28 دسمبر(یو این آئی) کشمیر میں ریزرویشن پالیسی کے خلاف طلبہ کے بڑھتے احتجاج اور اس کے پس منظر میں سامنے آنے والے سرکاری اقدامات پر میر واعظ عمر فاروق نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں میر واعظ نے کہا کہ کشمیر سے متعلق تقریباً ہر معاملے میں حکام کا ’ڈیفالٹ رسپانس‘ طاقت کا استعمال بن چکا ہے، جو جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں کے منافی ہے۔
میر واعظ نے کہا کہ بے چینی کے شکار طلبہ جنہیں ایک غیر متوازن اور مستقبل سوز ریزرویشن پالیسی پر شدید اعتراض ہے، اگر وہ اپنے جائز حقوق کے لیے پرامن بیٹھک کرتے ہیں تو اُس کے جواب میں طاقت، پابندیاں، نظربندی اور گرفتاری ہی کیوں واحد راستہ بنتا ہے؟ یہ طرزِ حکمرانی نہ صرف نوجوانوں میں بے اعتمادی کو بڑھا رہا ہے بلکہ حالات کو مزید پیچیدہ بنانے کا سبب بھی بن رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن سیاسی اور سماجی شخصیات نے طلبہ کے جائز مطالبات کی حمایت کی، انہیں گھروں میں نظر بند کرنا اور بعض طلبہ رہنماؤں کو حراست میں لینا ناقابلِ قبول اور افسوس ناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ نہ صرف طلبہ کا ہے بلکہ پورے سماج کی تشویش کا معاملہ ہے، جس کا فوری حل ہونا چاہیے، نہ کہ اسے طاقت سے دبایا جائے۔
میر واعظ نے وارننگ دی کہ اگر اس مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا تو یہ ایک بڑا تنازع بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریزرویشن پالیسی نے طلبہ کے مستقبل سے متعلق بے چینی کو جنم دیا ہے، لہٰذا حکومت پر لازم ہے کہ وہ حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے فوری، منصفانہ اور شفاف اقدامات کرے۔
انہوں نے اس موقع پر ہندستان کی دیگر ریاستوں، خصوصاً ہریانہ اور ہماچل پردیش میں کشمیری طلبہ اور نوجوانوں کو درپیش ہراسانی کے واقعات کا بھی ذکر کیا۔ میر واعظ نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جسے منتخب حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں