جموں، 5 جنوری:(عقاب نیوز ڈیسک)جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اٹل ڈلو نے کہا ہے کہ پرگتی (Pro-Active Governance and Timely Implementation) پلیٹ فارم نے جموں و کشمیر میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کے بروقت نفاذ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور کئی دہائیوں سے التوا کا شکار منصوبوں کو نئی رفتار ملی ہے۔
جموں میں ایک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری نے بتایا کہ پرگتی@50 ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کا مؤثر نظام بن چکا ہے، جس کے ذریعے بین المحکماتی رکاوٹیں اور طریقۂ کار کی تاخیر دور کر کے بڑے منصوبوں کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔
اس موقع پر کمشنر سیکریٹری اطلاعات ایم راجو، ڈائریکٹر اطلاعات نتیش راجورا، ڈائریکٹر پی آئی بی جموں نہا جلالی، جوائنٹ ڈائریکٹر اطلاعات ہیڈکوارٹر زہور احمد رینہ، جوائنٹ ڈائریکٹر اطلاعات جموں دیپک دوبے اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (DIPR) کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
چیف سیکریٹری نے ادھم پور–سری نگر–بارہمولہ ریل لنک (USBRL) منصوبے کو ایک نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس منصوبے کا آغاز 1995 میں ہوا تھا، تاہم تقریباً 25 برس تک اس پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ پرگتی کے تحت قریبی نگرانی اور وزیراعظم کی براہِ راست مداخلت کے بعد اس منصوبے میں نمایاں تیزی آئی۔
انہوں نے بتایا کہ 500 کروڑ روپے سے زائد لاگت والے تمام منصوبوں کی نگرانی وزیر اعظم گروپ (PMG) کرتا ہے، جس کی سربراہی کابینہ سیکریٹری کرتے ہیں، جبکہ انتہائی اہم منصوبوں کا جائزہ خود وزیراعظم پرگتی اجلاسوں کے دوران لیتے ہیں۔
چیف سیکریٹری کے مطابق، اس وقت جموں و کشمیر میں 61 بڑے منصوبے وزیر اعظم گروپ کے زیر نگرانی ہیں، جن کی مجموعی لاگت 4.12 لاکھ کروڑ روپے سے زائد ہے۔ یہ منصوبے رابطہ سڑکوں، توانائی اور سماجی بنیادی ڈھانچے جیسے اہم شعبوں سے متعلق ہیں۔ ان میں سے 15 منصوبے، جن کی لاگت تقریباً 69 ہزار کروڑ روپے ہے، مکمل ہو چکے ہیں جبکہ دیگر مختلف مراحل میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 15 اہم منصوبے براہِ راست وزیراعظم کی نگرانی میں پرگتی پلیٹ فارم کے تحت چل رہے ہیں، جس سے زمین کے حصول، مالی و جسمانی رکاوٹوں کے مسائل کے فوری حل اور متاثرہ خاندانوں کو بروقت و منصفانہ معاوضے کی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔
چیف سیکریٹری نے انکشاف کیا کہ پرگتی اجلاسوں میں جموں و کشمیر سے متعلق اٹھائے گئے 59 مسائل میں سے 57 حل ہو چکے ہیں، جس کی بدولت جموں و کشمیر ملک بھر میں بہترین کارکردگی دکھانے والی ریاستوں/مرکزی زیر انتظام علاقوں میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کامیابی میں ضلعی سطح پر مؤثر فالو اپ کا بھی اہم کردار رہا۔
انہوں نے بتایا کہ پرگتی کی نگرانی میں تقریباً 53 ہزار کروڑ روپے مالیت کے 6 بڑے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جن میں ادھم پور–سری نگر–بارہمولہ ریل لنک، کشن گنگا پن بجلی منصوبہ اور اس کی ٹرانسمیشن لائن، ایمس جموں، این ایچ-44 کا دشوار گزار بنی حال سیکشن، اور السٹنگ–کرگل–خلتسے–لے ٹرانسمیشن لائن شامل ہیں۔
اس کے علاوہ 9 دیگر اہم منصوبے تسلی بخش رفتار سے جاری ہیں، جن میں دہلی–امرتسر–کٹرہ ایکسپریس وے کوریڈور، ایمس اونتی پورہ، پاکل ڈُل پن بجلی منصوبہ، یو ایس او ایف کے تحت 4جی موبائل کنیکٹیویٹی اور دیگر توانائی و رابطہ منصوبے شامل ہیں۔
پریس بریفنگ کے اختتام پر چیف سیکریٹری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پرگتی پلیٹ فارم کے تحت جاری تمام ہدایات کو جموں و کشمیر میں مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مؤثر نظام کے ذریعے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ترقیاتی رفتار برقرار رکھی جائے گی اور تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کر کے عوامی مفاد کو یقینی بنایا جائے گا۔
