0

پی ڈی پی ایم ایل کی فری ٹریڈ پالیسی پر آل پارٹی میٹنگ کا مطالبہ

جموں،17 فروری (یو این آئی) جموں و کشمیر اسمبلی میں بجٹ مباحثے کے دوران پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ایم ایل اے وحید الرحمن پرہ نے کہا کہ غیر ملکی ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدوں نے وادی کی باغبانی معیشت، خصوصاً سیب صنعت کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے اس مسئلے پر آل پارٹی میٹنگ بلانے کی پرزور اپیل کی تاکہ وزیر اعظم تک ایک مشترکہ موقف پہنچایا جا سکے۔
مسٹرپرہ نے کہا کہ کشمیر میں بے روزگاری اور شدت پسندی کے سائے سے نکلنے کی کوششیں اقتصادی بحالی سے جڑی ہیں، اور اگر سیب صنعت کو تحفظ نہ ملا تو معیشت بحال نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کانگریس کے ایم ایل اے جی اے میر کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کسانوں اور باغبانوں میں فری ٹریڈ پالیسی کے خلاف شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں سے مقامی پیداوار، خصوصاً سیب، بری طرح متاثر ہو سکتی ہے اور کسانوں کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پرہ نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ دبئی معاہدے کے دوران سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے دور میں جموں کے لیے منظور شدہ ڈرائی پورٹ ابھی تک شروع نہیں ہو سکا۔
انہوں نے زرعی و باغبانی شعبے میں حکومت کی تکنیکی کوششوں کی تعریف کی، مگر بتایا کہ 30 لاکھ کنال سیب کے رقبے میں سے صرف 30 ہزار کنال پر ہی ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن ممکن ہو سکی ہے، جسے فوری طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاہ نے سود سے پاک قرضے فراہم کرنے، شمالی و وسطی کشمیر میں آگاہی بڑھانے، بورویل تعمیر میں درپیش رکاوٹیں دور کرنے اور نہروں و ندی نالوں کی ڈیسلٹنگ کو ایم جی نریگا کے تحت مشن موڈ میں لینے کی تجویز بھی پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس فری ٹریڈ پالیسی پر محدود اختیارات ہیں، اس لیے تمام جماعتوں بی جے پی، کانگریس اور دیگرکو ایک پلیٹ فارم پر لا کر کسانوں کا مشترکہ موقف مرکز تک پہنچانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں