جموں،21جنوری(یو این آئی) یوم جمہوریہ قریب آنے کے ساتھ ہی پورے جموں و کشمیر میں سکیورٹی انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔ بدھ کے روز جموں شہر کے مضافاتی علاقوں بھٹینڈی، نروال اور راجیو نگر میں پولیس اور سی آر پی ایف نے گھر گھر تلاشیاں کیں، جبکہ کشتواڑ کے پہاڑی علاقوں میں فوج نے جاری سرچ آپریشن کے لیے مزید دستے تعینات کر دیے۔ سیکورٹی حکام کے مطابق اِس آپریشن کا مقصد کسی بھی دہشت گردانہ کوشش کو ناکام بنانا اوریوم جمہوریہ تقریبات کو پُرامن انداز میں یقینی بنانا ہے۔
جموں شہر کے جنوبی حصے میں واقع بھٹینڈی-نروال-راجیو نگر علاقے میں بدھ کی صبح اچانک بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جہاں روہنگیا اور بنگلہ دیشی باشندوں کی ایک بڑی تعداد جھگی بستیوں میں آباد ہے۔ پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے ان بستیوں میں گھر گھر جا کر تلاشی لی، ریکارڈز کی جانچ کی اور مشکوک افراد کی تلاش میں جھونپڑیوں کا معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق ابھی تک کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا، تاہم تلاشی مہم کا مقصد یوم جمہوریہ سے قبل کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کرنا ہے۔
اِدھر سرحدی علاقوں، اہم شاہراوں اور داخلی راستوں پر بھی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ حفاظتی دستوں نے ناکہ بندیوں میں اضافہ کیا ہے، گاڑیوں کی چیکنگ اور مشکوک نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ دہشت گرد تنظیمیں یومِ جمہوریہ سے قبل حملے کی کوشش کر سکتی ہیں، جس کے پیش نظر بارڈر گرڈ مضبوط کیا گیا ہے۔
کشتواڑ کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جاری سرچ آپریشن ’آپریشن تراشی-ون‘چوتھے روز بھی جاری رہا۔ فوج نے بدھ کو اضافی دستے سونار، مندرال-سنگھ پورہ اور چھاترو بیلٹ کے آس پاس تعینات کیے تاکہ اتوار کے روز شروع ہونے والے آپریشن کو مزید تیزی دی جا سکے۔ حکام کے مطابق اس علاقے میں دو سے تین دہشت گرد، جن کا تعلق پاکستان میں قائم جیشِ محمد سے بتایا جا رہا ہے، اب بھی جنگلوں میں چھپے ہوئے ہیں۔
سرچ آپریشن کا دائرہ صرف کشتواڑ تک محدود نہیں بلکہ راجوری، پونچھ، سانبہ، کٹھوعہ، ادھمپور اور ڈوڈہ کے متعدد مقامات پر بھی سرچ اور کومبنگ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ نیٹ ورک یا سلیپر سیل کی موجودگی کو بروقت پکڑا جا سکے۔
0
