0

کشمیری شال فروش پرحملہ ،مارپیٹ اوردھمکیاں،وزارت داخلہ نے لیا سخت نوٹس

سری نگر:۶۲،دسمبر : مرکزی وزارت داخلہ نے اتراکھنڈ میں ایک کشمیری موسمی شال فروش پر حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ کشمیری شال بیچنے والوں کےخلاف ایسی کارروائیوں کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائےگا۔جے کے این ایس کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ وزارت نے اس واقعہ کا سخت نوٹس لیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کشمیری شال بیچنے والوں کےخلاف اس طرح کی کارروائیوں کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری تاجر برابر ہندوستانی شہری ہیں، آئینی طور پر ہندوستان میں کہیں بھی کام کرنے کے حقدار ہیں۔حکام کے مطابق، پیر، 22 دسمبر، 2025 کی سہ پہر، کشمیری شال فروش 28سالہ بلال احمد گنائی کو،ریاست اُتراکھنڈ کے ا ±دھم سنگھ نگر ضلع کے کاشی پور علاقے میں سخت سردی کے مہینوں میں اپنے خاندان کی کفالت کے لئے گھر گھر جا کر فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا۔بلال اتراکھنڈ میں ایک موسمی شال بیچنے والاہے اور8 سال سے زیادہ عرصے سے ریاست میں کام کر رہا ہے، 8 سالوں سے کاروبار کر رہا ہے، اور مقامی طور پر ایک پرامن اور غیر خلل نہ ڈالنے والی تجارتی موجودگی کے طور پر جانا جاتا تھا۔پولیس نے کہا کہ بنیادی ملزم انکور سنگھ، ایک مقامی بجرنگ دل لیڈر، نے مبینہ طور پر 5 افراد کے ایک گروپ کی قیادت کی جس نے کشمیری شال فروش بلال کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس پر حملہ کیا، اسے جسمانی تشدد، زبانی بدسلوکی، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔انہوں نے بتایا کہ حملے کے دوران، متاثرہ کو زبردستی ”بھارت ماتا کی جئے “کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا اور حملہ کرتے ہوئے”بھارت ماتا کی جئے“کے نعرے لگانے کےلئے بھی دباو ¿ ڈالا گیا۔حکام کے مطابق مقدمے کو ابتدائی طور پر گوشالہ پولیس چوکی میں ایک(معافی نامہ) کے ذریعے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کےساتھ غیر رسمی تصفیہ کے دباو ¿ کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے باضابطہ اندراج میں تاخیر ہوئی۔ تاہم، حملہ کی ایک وائرل ویڈیو کے بعد عوامی غم و غصہ اور مذمت کو جنم دیا، معاملہ نئی دہلی تک پہنچ گیا، جس کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے اتراکھنڈ انتظامیہ کو قانون کے نفاذ کی سختی کو یقینی بنانے کے لیے سخت ہدایت جاری کی۔ ایک اہلکار نے بتایاکہ اس مداخلت نے فیصلہ کن طور پر کام کیا، جس نے اتراکھنڈ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دیپم سیٹھ اور گورنر کو مقدمے کو اولین ترجیح پر رکھنے کےلئے آمادہ کیا۔حکام نے بتایاکہ ملزمان اور ملوث عناصر کےخلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاو ¿ن شروع ہوا۔اہلکار نے بتایا کہ ایم ایچ اے کی ہدایت اور عوامی مذمت کے بعد، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک تیز رفتار، مربوط آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں اب تک3 ملزمین کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، تحقیقات کے وسیع ہونے کےساتھ ساتھ مزید چھاپے اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر نمبر 517/2025بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 191 (2)، 115 (2)، 351 (3)، 352، 304، 62، 292، اور 126 (2) کے تحت درج کی گئی ہے۔ درخواست کی گئی دفعات میں مجرمانہ دھمکی، چوٹ، حملہ، جان کو خطرہ، جبر، اور بدسلوکی/قابل اعتراض حرکتوں سے متعلق الزامات شامل ہیں، جو جرم کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔حکام نے کہا کہ کوئی دباو ¿ یا تصفیہ کرنے کی کوشش استغاثہ کو پٹری سے نہیں اتارے گی، اور یہ کہ واقعات کی مکمل ترتیب، اضافی ملزمان اور قانون کے تحت ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تفتیش میرٹ پر سختی سے آگے بڑھے گی۔ایک سینئر پولیس اہلکار نے کہا کہ کیس کی تحقیقات مشن موڈ میں کی جائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ انصاف کی فراہمی کو شفاف اور تیزی سے یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔دریں اثناءاپنی نوعیت کی فوری کارروائی میں اُتراکھنڈ پولیس نے کشمیر سے تعلق رکھنے والے شال فروش کی مار پیٹ کرنے اور اُسے جان سے مارنے کی دھمکی دینے والے3ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔کشمیری شال فروش بلال گزشتہ قریب ایک دہائی سے ریاست اُتراکھنڈ میں شال فروخت کرکے اپنے اور اپنے اہل و عیال کےلئے نان شبینہ کا بندوبست کر رہاہے۔ اُتراکھنڈبلال کے لئے ’دوسرے گھر‘ جیسا ہے تاہم 22دسمبر کے واقعے نے نہ کشمیر سے باہر شال وغیرہ فروخت کرنے والے مزدوروں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔سماجی رابطہ گاہ وائر ہوئے ایک ویڈیو نے سب کے دل دہلا دئیے۔ ویڈیو میں کچھ مقامی نوجوانوں کو کشمیری شال فروش بلال کوسرراہ تنگ کرتے، دھمکاتے اور پیٹتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو انسٹاگرام پر شیئر ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے دیگر پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئی، اُتراکھنڈ پولیس نے متاثرہ کشمیری شال فروش کی شکایت پر عمل کرتے ہوئے اس واقعے میں ملوث3ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ اُتراکھنڈپولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ22 دسمبر کو ا ±دھم سنگھ نگر ضلع کے کاشی پور بازار میں پیش آیا۔ اور بلال، جموں و کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں اور گزشتہ9 برس سے اتراکھنڈ میں رہائش پذیر ہے اور گھر گھر جا کر محنت کرکے، شال فروخت کرکے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ انہیں یہاں آئے 9 سال ہوئے تاہم 22دسمبر کی وہ شام ان کے لئے ایک زخم بن کر رہ گئی۔سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ا ±دھم سنگھ نگر منی کانت مشرا نے بتایا کہ جوں ہی ویڈیو پولیس تک پہنچی، اور معاملہ چونکہ نازک اور لوگوں کے جذبات سے مسلک تھا، اس وجہ سے فوری طور پر ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اتراکھنڈ پولیس نے انسٹاگرام انتظامیہ سے ویڈیو ہٹانے کی درخواست بھی کی ہے۔بلال نے اس ضمن میں 26 دسمبر کو کاشی پور تھانہ پہنچ کر پولیس کو ایک سادہ کاغذ پر اپنی درد بھری کہانی اور اپنے ساتھ ہوئے ظلم کی داستان تحریر کی کہ کس طرح کچھ مقامی نوجوانوں نے انہیں گالیاں دیں، مارا پیٹا حتی کہ جان سے مارنے کی بھی دھمکیاں دیں۔ایس ایس پی نے بتایاکہ اُتراکھنڈپولیس نے بلال کی شکایت پر بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا، جن میں: فساد، چوٹ پہنچانا، دھمکی دینا، امن خراب کرنے کی کوشش، وغیرہ کی دفعات درج ہیں۔ اور پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ویڈیو میں نظر آنے والے 3 نوجوانوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ایس ایس پی نے کہا ”پولیس قانون نافذ کرنے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ایک شہری کے ساتھ کھڑی ہے“۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس معاملے ”پوری ایمانداری کے ساتھ تحقیقات ہوگی، اور قصوروار کو سخت سزا ملے گی۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں