سری نگر/جموں – جموں، کشمیر اور لداخ کے علاقوں میں آج کم سے کم درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے میدانی اور بالائی دونوں علاقوں میں سردی کی شدید لہر جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، خطے میں سب سے کم درجہ حرارت منفی 18.0°C کے ساتھ زوؔجیلا پاس پر ریکارڈ کیا گیا، جو خطے میں موسم کی سختی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس شدید سردی کے باعث مقامی زندگی متاثر ہوئی ہے اور سرد علاقوں میں نلوں کا پانی جمنے کی اطلاعات ہیں۔
کشمیر ڈویژن میں کئی علاقے نقطہ انجماد سے بہت نیچے چلے گئے ہیں۔ مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں درجہ حرارت منفی 5.5°C ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سری نگر کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.9°C رہا۔ شمالی کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں سردی کی شدت منفی 4.5°C رہی اور جنوبی کشمیر کے علاقے شوپیاں میں منفی 4.3°C ریکارڈ کیا گیا۔ پہلگام، جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، وہاں کا درجہ حرارت منفی 3.6°C رہا۔ ان اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ تر وادی سخت ٹھنڈ کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
لداخ کے علاقے میں بھی سردی عروج پر ہے، جہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کافی نیچے گر چکا ہے۔ لہہ کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 5.5°C اور کرگل کا منفی 5.1°C ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ علاقے جغرافیائی اعتبار سے اونچائی پر ہونے کی وجہ سے ہر سال سخت سردی کی زد میں رہتے ہیں، تاہم حالیہ اعداد و شمار نے ٹھنڈ کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اس کے برعکس، جموں خطے میں درجہ حرارت کشمیر اور لداخ کے مقابلے میں نسبتاً معتدل ہے۔ جموں شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 8.4°C ریکارڈ کیا گیا، جب کہ کٹرا کا درجہ حرارت 9.5°C کے ساتھ خطے میں سب سے زیادہ رہا۔ تاہم، کچھ بالائی مقامات پر ٹھنڈ کی شدت محسوس کی گئی؛ بھدرواہ میں پارہ 0.8°C اور راجوری میں 2.0°C ریکارڈ کیا گیا۔ جموں، کٹھوعہ اور رام بن میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب 8.4°C، 7.4°C اور 5.6°C رہا۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے چند روز تک موسم مجموعی طور پر خشک اور سرد رہے گا۔ شدید سردی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے، اور شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
