0

کشمیر میں آبی بحران کا ابتدائی انتباہ، دریائے جہلم میں پانی کی سطح مارچ کے آغاز میں ہی غیر معمولی طورپر کم

سری نگر،5 مارچ (یو این آئی) دریائے جہلم میں پانی کی سطح مارچ کے پہلے ہفتے میں غیر معمولی طور پر کم ریکارڈ کی گئی ہے جسے ماہرین نے خطے کی آبی صورتحال اور مستقبل میں دھان کی کاشت کے لیے ایک تشویشناک اشارہ قرار دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کی صبح 9 بجے سنگم کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی سطح منفی 0.86 فٹ ریکارڈ کی گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دریا زیرو گیج سطح سے بھی نیچے بہہ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سال کے اس حصے میں اتنی کم سطح پر دریا کا بہنا ایک غیر معمولی صورتحال ہے اور ماضی میں اس طرح کے واقعات بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال سردیوں کے دوران برفباری اور بارش نہ ہونے کے برابر رہی جس کے باعث پہاڑی علاقوں میں برف کا ذخیرہ انتہائی کم رہا۔ یہی وجہ ہے کہ دریا میں بہنے والے پانی کی مقدار بھی نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ عام طور پر وادی میں سردیوں کے اختتام اور ابتدائی بہار کے دوران دریا میں پانی کی سطح بڑھنے لگتی ہے کیونکہ پہاڑوں پر جمی برف پگھل کر دریا میں شامل ہوتی ہے۔ تاہم اس سال صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فروری کے مہینے میں وادی کشمیر میں غیر معمولی گرم موسم دیکھنے کو ملا اور کئی مواقع پر درجہ حرارت معمول سے 10 ڈگری سیلسیس تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس گرم موسم کے ابتدائی دنوں میں دریا کی سطح میں معمولی اضافہ ضرور ہوا اور پانی چند فٹ تک بڑھا، تاہم یہ اضافہ بہت مختصر مدت کے لیے تھا اور جلد ہی سطح دوبارہ کم ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق ماضی میں جب سردیوں یا ابتدائی بہار کے دوران اس نوعیت کی گرم لہریں وادی کو متاثر کرتی تھیں تو پہاڑوں پر موجود برف تیزی سے پگھلتی تھی اور اس کے نتیجے میں دریائے جہلم میں پانی کی سطح 5 سے 8 فٹ تک بڑھ جاتی تھی۔ لیکن رواں سال اس طرح کا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں برف کا ذخیرہ معمول سے کہیں کم ہے۔
ماہرین نے اس صورتحال کو مستقبل کے لیے ایک ابتدائی انتباہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آنے والے ہفتوں میں بارش یا برفباری نہیں ہوئی تو وادی کی آبی صورتحال مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کا براہ راست اثر زرعی سرگرمیوں، خاص طور پر دھان کی کاشت پر پڑ سکتا ہے۔
وادی کشمیر میں دھان کی کاشت کا عمل عموماً اپریل اور مئی کے مہینوں میں شروع ہوتا ہے جب کسان نرسری تیار کرتے ہیں۔ اس مرحلے پر کسانوں کو زیادہ مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے جو عموماً دریاؤں، ندی نالوں اور نہروں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ تمام آبی ذرائع زیادہ تر پہاڑوں سے پگھلنے والی برف کے پانی پر منحصر ہوتے ہیں۔
زرعی ماہرین کے مطابق اگر پانی کی دستیابی محدود رہی تو دھان کی نرسری کی تیاری اور ابتدائی بیج بونے کے مراحل متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف فصل کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ وادی کی زرعی معیشت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ دھان کشمیر کی اہم فصلوں میں شمار ہوتی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو ابھی حتمی بحران نہیں کہا جا سکتا، تاہم اسے ایک ابتدائی انتباہ ضرور سمجھا جانا چاہیے۔ اگر آنے والے ہفتوں میں موسم میں تبدیلی آتی ہے اور بارش یا برفباری میں اضافہ ہوتا ہے تو دریا میں پانی کی سطح بہتر ہو سکتی ہے اور صورتحال کسی حد تک معمول پر آ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس صورتحال پر قریبی نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اگر پانی کی قلت کا خطرہ بڑھتا ہے تو بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے کسانوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ موسمی صورتحال اور آبی وسائل کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زرعی حکمت عملی ترتیب دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دریائے جہلم کی غیر معمولی کم سطح اس بات کی واضح علامت ہے کہ رواں سال وادی کی آبی صورتحال توقع کے مطابق نہیں رہی اور اگر آنے والے دنوں میں موسمی حالات بہتر نہ ہوئے تو اس کے اثرات زراعت سمیت مختلف شعبوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں