0

کشمیر میں ہیرتھ کا آغاز، کشمیری پنڈت گھرانوں میں روایتی وٹک پوجا کا اہتمام

سری نگر،15فروری(یو این آئی)وادی کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کے محبوب تہوار ’ہیرتھ‘ کی روایتی تقریبات نے ایک بار پھر گھرانوں میں روحانیت، عقیدت اور ثقافتی وارثت کی چمک بھر دی ہے۔ تہوار کی مناسبت سے گزشتہ رات پنڈت گھرانوں میں ’وٹک پوجا‘ کا خصوصی اہتمام کیا گیا جبکہ اتوار کو بچوں اور خواتین میں روایتی ’ہیرژ خرچ‘ یعنی نقدی کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری رہا، جسے تہوار کی خوشی اور دعاؤں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

بھارت سمیت سری لنکا، نیپال اور پاکستان میں جہاں ہندو برادری یہ تہوار ’مہا شیوراتری‘ کے طور پر مناتی ہے، وہیں کشمیری پنڈت اس کو اپنے منفرد انداز میں گھروں کے اندر مخصوص برتنوں اور خشک میوہ جات کے ذریعے انجام دی جانے والی وٹک پوجا سے مناتے ہیں۔ اس پوجا میں شیو اور پاروتی کی شادی کی علامت کے طور پر دو بڑے اور متعدد چھوٹے برتن رکھے جاتے ہیں جنہیں باراتیوں اور محافظین کی علامت مانا جاتا ہے۔

سینئر صحافی رمیش امبردار نے یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہیرتھ کی تقریبات ایک ہفتے تک جاری رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات پوجا کا آغاز ہوچکا ہے، آج سلام کا دن تھا اور چوتھے دن پرشاد کی تقسیم ہوگی۔

انہوں نے پرانی روایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوے کی دہائی سے قبل اس تہوار کی رونق کچھ اور ہی ہوتی تھی۔

وادی سے ہجرت کرنے والے پنڈت گھرانوں کا کہنا ہے کہ آج بھی وادی کے مختلف علاقوں سے مسلم برادری اخروٹ بطور سلام لے کر پنڈت بھائیوں تک پہنچتے ہیں، جو کشمیری مشترکہ تہذیب کی خوبصورت مثال ہے۔

وٹک پوجا میں استعمال ہونے والے برتنوں میں بھگوئے ہوئے اخروٹ، بادام اور دیگر خشک میوہ جات رکھے جاتے ہیں جنہیں چند روز بعد بطور پرشاد رشتہ داروں اور پڑوسیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور اس کا بڑا حصہ بیاہی ہوئی بیٹیوں کے گھر بھیجا جاتا ہے۔

ادھر سری نگر کے ہنومان مندر، رام مندر اور شنکر آچاریہ مندر میں بھی خصوصی پوجا کا اہتمام کیا گیا۔ زبرون پہاڑی پر واقع شنکر آچاریہ مندر کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا سینکڑوں عقیدت مند “ہر ہر مہا دیو” کے نعروں میں پوجا کے لیے پہنچے۔

وادیٔ کشمیر، بالخصوص پنڈت کالونیوں میں، انتظامیہ نے سیکیورٹی و دیگر ضروری انتظامات مکمل کر رکھے تھے جبکہ محکمہ فشریز نے ٹراؤٹ فش کی خریداری کے لیے خصوصی مراکز بھی قائم کیے۔

تہوار نے ایک بار پھر اس پیغام کو اجاگر کیا ہے کہ کشمیر کی صدیوں پرانی مشترکہ تہذیب آج بھی دلوں کو جوڑے رکھنے میں اپنا کردار نبھا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں