سری نگر، 26 مارچ (عقاب نیوز ڈیسک): کووڈ دور کے ایک بڑے مالی گھوٹالے کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے جمعرات کے روز سری نگر اور بڈگام کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے، جس میں سرکاری فنڈز کی بڑے پیمانے پر خرد برد کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
ای او ڈبلیو کشمیر (کرائم برانچ جموں و کشمیر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، یہ کارروائیاں ایف آئی آر نمبر 11/2026 کے سلسلے میں انجام دی گئیں، جو پولیس اسٹیشن اکنامک آفنسز ونگ سری نگر میں درج ہے۔ مقدمہ تعزیراتِ ہند کی دفعات 420، 467، 468، 471، 120-بی کے علاوہ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 66-ڈی کے تحت درج کیا گیا ہے۔
یہ کیس نئی دہلی کے نجف گڑھ میں قائم ایم/ایس سنجے ٹریڈنگ کمپنی کے مالک سنجے کمار ساہو کی تحریری شکایت پر درج کیا گیا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ عماد مظفر مقدومی عرف عمران شاہ اور وقار احمد بٹ نے کووڈ-19 وبا کے دوران طبی سامان کی فراہمی کے بہانے کمپنی کو دھوکہ دیا اور بھاری رقم حاصل کی۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان نے جعلسازی اور فریب دہی کے ذریعے سرکاری دفاتر، بشمول ڈپٹی کمشنر اننت ناگ کے دفتر سے بھی بڑی رقوم حاصل کیں۔ مزید برآں، انہوں نے گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر سے کروڑوں روپے نکالنے کی کوشش بھی کی۔
بیان کے مطابق، ملزمان نے خود کو سرکاری افسران ظاہر کرتے ہوئے ڈیلیگیٹس اور او ایس ڈی (سپلائیز) کے طور پر پیش کیا اور مختلف محکموں کے جعلی الاٹمنٹ آرڈرز جاری کیے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے شکایت کنندہ کمپنی کے نام پر فرضی ای میل آئی ڈیز بنائیں اور جعلی بینک اکاؤنٹس کھول کر رقوم کو دوسری جگہ منتقل کیا۔
حکام کے مطابق، ان انکشافات کی بنیاد پر باقاعدہ کیس درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ آج کیے گئے چھاپوں کا مقصد مزید شواہد، بشمول ڈیجیٹل ریکارڈ اور مالی دستاویزات حاصل کرنا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
