جموں،18فروری(یو این آئی) کشمیر صوبے کے کھریو علاقے میں سیمنٹ فیکٹریوں اور چونے کی کانوں سے اٹھنے والی مسلسل دھول نے مقامی آبادی میں صحت کے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں پیش کیے گئے ایک سوال کے جواب میں محکمہ صحت نے اعتراف کیا کہ صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے باریک ذرات انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو رہے ہیں اور ان سے سانس، دل، جلد اور آنکھوں کی بیماریاں بڑھنے کا امکان ہے۔
حکومت نے کہا کہ اگرچہ دستیاب اعداد و شمار سے بیماریوں کا براہ راست تعلق آلودگی سے ثابت نہیں ہوتا، لیکن رپورٹ شدہ کیسوں میں 80 سی او پی ڈی، 72 برونکائٹس، 40 دمہ اور دو سنگین دل و پھیپھڑوں کے امراض شامل ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
محکمہ صحت نے بتایا کہ علاقے کے سب ضلع اسپتال اور پرائمری ہیلتھ سینٹروں کو آلودگی سے متاثرہ مریضوں پر خصوصی نظر رکھنے، ادویات اور نیبولائزر جیسی سہولیات کا ذخیرہ برقرار رکھنے اور طبی عملے کی تربیت میں اضافہ کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ عوامی سطح پر آگاہی مہمات بھی شروع کی جا رہی ہیں تاکہ رہائشیوں کو زیادہ دھول والے دنوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔
حکام نے واضح کیا کہ مسئلے کے مستقل حل کے لیے صنعتی ذرائع سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت، محکمہ ماحولیات اور آلودگی کنٹرول بورڈ کے درمیان رابطے کو مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ فیکٹریوں میں ڈسٹ کنٹرول کے قوانین پر سختی سے عمل کرایا جا سکے اور بہتر ٹیکنالوجی کے استعمال کی نگرانی کی جا سکے۔
دوسری جانب، کھریو کے پرائمری ہیلتھ سینٹر کی اپ گریڈیشن کے مطالبے کو حکومت نے مسترد کر دیا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ معیار، آبادی اور جغرافیائی محلِ وقوع کے مطابق پی ایچ سی کھریو کو سب ضلع اسپتال یا کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کے درجے پر لانا ممکن نہیں، کیونکہ یہ ایمس اونتی پورہ اور ایس ڈی ایچ پامپور کے نزدیک واقع ہے۔
وزیر انچارج صحت و طبی تعلیم نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت آلودگی کے اثرات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔
0
