0

گنڈ بل سانحہ: دو سال بعد دریائے جہلم سے غرقآب ہوئے نوجوان کے پاوں کا حصہ ملا

سری نگر،11جنوری(یو این آئی) سری نگر کے گنڈ بل کشتی حادثے کو تقریباً دو سال گزر چکے ہیں، تاہم اتوار کو ایک غیر متوقع انکشاف نے نہ صرف مقامی آبادی کو چونکا دیا بلکہ ایک بار پھر اُس سانحے کی دردناک یادیں تازہ کر دیں۔ مقامی لوگوں نے جہلم کے کنارے ریت صاف کرتے ہوئے ریت میں دبے ہوئے انسانی پاؤں کے مشابہ آثار دیکھے، جس کے بعد علاقے میں کھلبلی مچ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت سامنے آیا جب گنڈ بل کے کچھ مقامی باشندے دریائے جہلم کے کنارے ریت نکالنے کا کام کر رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے ریت کے اندر سے ایک ایسی چیز کو ابھرتے دیکھا جو دیکھنے میں انسانی پاؤں لگ رہا تھا۔
ایک مقامی شہری نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہا :’ہم ریت صاف کر رہے تھے کہ اچانک ریت میں سے ایک چیز باہر نظر آئی۔ قریب جا کر دیکھا تو وہ انسانی پاؤں جیسی لگ رہی تھی۔ یہ کافی پرانی اور جزوی طور پر سڑی ہوئی تھی۔ ہم نے فوراً پولیس کو اطلاع دی۔‘
اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم موقع پر پہنچی اور ابتدائی جانچ کا آغاز کیا، تاہم حکام نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ یہ باقیات کس کی ہو سکتی ہیں۔
مقامی سطح پر قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ یہ پاؤں گنڈ بل کشتی حادثے میں لاپتہ ہونے والے شوکات احمد شیخ کا ہو سکتا ہے، جو 16 اپریل 2024 کو پیش آنے والے دل خراش سانحے کے دوران گم ہو گئے تھے۔ یاد رہے کہ اس حادثے میں آٹھ افراد جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ شوکت احمد کی لاش وسیع تلاش کے باوجود نہیں مل سکی تھی۔
اس واقعے کے بعد ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف اور مارکوز کی ٹیموں نے کئی روز تک بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن چلایا تھا، مگر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ریت کھودنے اور باقیات کی شناخت کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق باقیات کو فورینسک معائنے کے لیے بھیجا جائے گا تاکہ ان کی اصل نوعیت اور عمر کا پتہ چل سکے۔
پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں