جموں، 3 فروری (یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ ہم نے یہ امید نہیں کی تھی کہ ہماچل پردیشں میں ہمارے لوگوں کو تنگ کیا جائے گا۔انہوں نے وزیر اعلیٰ سے گذارش کی کہ وہ اس سلسلے کو روکنے کے لئے اقدام کریں۔ وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار منگل کو یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دینے کے دوران کیا۔
ٹی ٹونٹی عالمی کپ میں پاکستان کا ہندوستان کے خلاف میچ کھیلنے سے بائیکاٹ کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ‘میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ سپورٹس کو جب ہم سیاست کے ساتھ جوڑتے ہیں تو یہی ہوتا ہے، ہم نے سپورٹس اور سیاست کے درمیان فرق کرنا بند کر دیا ہے اور میڈیا بار بار ہندوستان اور پاکستان کے درمیان میچ کو ایک جنگ کے طور پر پیش کرتا ہے، اس کو کبھی بھی ایک نارمل میچ کی طرح پیش نہیں کیا جاتا ہے’۔
کشمیریوں کی باہر کی ریاستی میں مبینہ ہراسانی کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر عبداللہ نے کہا: ‘میں نے نارتھ زون وزرائے اعلیٰ کانفرنس میں اس حوالے سے بات کی تھی، اور تمام وزرائے اعلیٰ سے گذارش کی تھی کہ وہ کشمیریوں کو ہرا ساں کرنے کے سلسلے کو بند کرائیں’۔
انہوں نے کہا: ‘میں اترا کھنڈ کے وزیر اعلیٰ کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے بر وقت کارروائی کی اور اس میں گرفتاریاں بھی ہوئیں، لیکن ہماچل پردیش جو ہماری ہمسایہ ریاست ہے، میں یہ سلسلہ لگاتار جاری ہے، میں ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ اس سلسلے کو بند کرنے کے لئے اقدام کریں، ہمیں یہ امید نہیں تھی کہ ہماچل میں ہمارے لوگوں کو اس طرح تنگ کیا جائے گا کیونکہ وہاں کانگریس کی حکومت ہے’۔
ٹیرف میں کمی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ‘امریکہ کے صدر خوش نہیں تھے کہ ہم روس سے تیل خریدیں،ہندوستان کی طرف سے باقاعدہ بیان نہیں آیا ہے لیکن امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ ہماری سرکار نے روس سے تیل خریدنا بند کر دیا ہے،تاہم ٹیرف کو کم کرنے سے ہمارے ایکسپورٹس کو فائدہ ہوگا کیونکہ وہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے تھے’۔
مرکز بجٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر اعلیٰ نے کہا: ‘میں بجٹ کے بارے میں ایوان کے اندر بات کروں گا’۔
راہل گاندھی کے ایک بیان کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘ پارلیمانی استحقاق سے متعلق معاملات کو پارلیمنٹ کے اندر ہی حل کیا جانا چاہئے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘یہ فیصلہ کرنا سپیکر کا استحقاق ہے، اسی طرح یہاں اسمبلی یا پارلیمنٹ کے معاملات پر بحث کرنا مناسب نہیں’۔
کوآرڈینیشن کمیٹی کی تشکیل کے کانگریس کے مطالبے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ مسئلہ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے ساتھ اٹھایا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا: ‘میں جموں و کشمیر کا وزیر اعلیٰ ہوں، وہ نیشنل کانفرنس کے صدر ہیں، آپ کو اس پر ان سے بات کرنی چاہیے’۔
0
