نئی دہلی ، 27 دسمبر (یواین آئی) بالی وڈ میں معروف اداکار اور سماجی کارکن فاروق شیخ کاشماران شخصیات میں ہوتا تھا جنھوں نے ڈراموں اور متوازی سنیما میں اردو زبان و ادب اور تہذیب کی بھرپور نمائندگی کی۔ انہوں نے گرم ہوا ،امراؤجان، نور ی، شطرنج کے کھلاڑی اور چشم بددور جیسی متعدد یادگار فلموں میں اپنی بے مثال اداکاری سے لوگوں کےدل جیتے۔ان فلموں میں اردو تہذیب و ثقافت اور طرزمعاشرت کی بھرپور ترجمانی کی گئی ہے۔ مصروف ترین زندگی گزارنے کے باوجود انہوں نے کبھی خود کو سماج سے الگ نہیں رکھا۔ وہ ہمیشہ بے سہارا اور غریب نیز ہونہارنادار طلبا کی اس طرح مدد کرتے تھے کہ دائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوتی۔
فاروق شیخ کی پیدائش 25 مارچ 1948 کوگجرات کے شہر بدولی کے قریب ایک گاؤں نشوالی، امراہلی ضلع بڑودا میں ایک زمیندار گھرانہ میں ہوئی تھی۔ ان کے والد مصطفی شیخ ممبئی کے معروف وکیل تھے۔ فاررق شیخ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔
انہوں نے سینٹ میری اسکول، ممبئی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سینٹ جیویر کالج، ممبئی اور پھر سدھارتھ کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وہ کچھ وقت تک اپنے والد کے ساتھ وکالت کرتے رہے۔ لیکن وکالت کے پیشے میں ناکام رہنے کے بعد انہوں نے تھیٹر کا رخ کیااور پنے فلم انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا۔ کالج کے دنوں میں وہ اداکاری اور اسٹیج ڈراموں میں حصہ لیتے تھے اور یہی پر ان کی ملاقات ان کی مستقبل کی شریک حیات روپا سے ہوئی تھی۔ ان کی دو بیٹیاں ثناء شیخ اور شائستہ شیخ ہیں۔
اگرچہ فلموں میں ان کی شناخت متوازی سنیما سے تھی مگران میں کلاسیکی اردو شاعری کا ذوق کوٹ کوٹ کربھراہوا تھا۔ انہیں اردو زبان سے بے حد لگاؤ تھا اور وہ بہت شستہ اردو میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ اکثر وبیشتر وہ ولی دکنی، غالب، میر، مومن، فیض، مخدوم محی الدین اور مجاز کے شعر گنگنایا کرتے تھے۔ ان کا طرز تحریربھی اس قدر خوب صور ت اور دلچسپ ہوتا تھا کہ کئی فلمی مکالمہ نگار اپنے مسودوں کی تصحیح فاروق شیخ سے کرانے کو ترجیح دیتے تھے۔
ستر کی دہائی میں اداکار کے طور پر فلم انڈسٹری میں شناخت بنانے کے لئے فاروق شیخ نے ممبئی میں آئے تھے۔ وہ یہاں تقریبا چھ سال تک جدوجہد کرتے رہے۔ انہیں یقین دہانی تو سبھی کراتے، لیکن کام کا موقع کوئی نہیں دیتا ۔پھر فاروق شیخ کو 1973ء میں ہندوستان کی آزادی پر بننے والی فلم ’گرم ہوا‘ میں کام کرنے کا موقع ملا اور یہیں سے ان کے فلمی کیریئر کا آغاز ہوا۔اس فلم میں کام کا معاوضہ انہیں 750 روپے ملا تھا۔ يوں تو پوری فلم اداکار بلراج ساہنی پر مبنی تھی لیکن اس فلم سے فاروق شیخ ناظرین کے درمیان کچھ حد تک شناخت بنانے میں کامیاب رہے۔
اس کے بعد عظیم ڈائریکٹر ستیہ جیت رے کی فلم شطرنج کے کھلاڑی میں انہیں کام کرنے کا موقع ملا لیکن اس سے انہیں کچھ خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ فاروق کی قسمت کا ستارہ ہدایت کار یش چوپڑا کی 1979کی فلم نوری سے چمکا۔ بہترین نغمے، موسیقی اور اداکاری سے سجی اس فلم کی کامیابی نے نہ صرف ان کو ، بلکہ اداکارہ پونم ڈھلوں کو بھی اسٹار بنادیا۔
فلم میں لتا منگیشکر کی آواز میں ‘ آجا رے آجا رے میرے دلبر آجا’ نغمہ آج بھی سامعین کو محظوظ کر دیتا ہے۔ سال 1981میں فاروق کے فلمی کیریئر کی اہم فلم امرا ؤ جان ریلیز ہوئی۔ مرزا ہادی رسوا کے مشہور اردو ناول پر مبنی اس فلم میں انہوں نے نواب سلطان کا کردار ادا کیا جنہیں امرا ؤ جان سے محبت ہوجاتی ہے۔ اپنے اس کردار کو انہوں نے اتنی سنجیدگی سے ادا کیا جیسے ناظرین آج بھی بھول نہیں پائے ہیں۔ اس فلم کے سدا بہار نغمے آج بھی ناظرین اور سامعین کی زبان پر ہیں۔ خیام کی موسیقی سے مزین اور آشا بھونسلے کی سحر انگیز آواز ’ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں‘’دل چیز کیا ہے آپ مر ی جان لیجئے‘ سن کر آج بھی لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں تھم جاتی ہیں۔ اس فلم کے لئے آشا بھونسلے کو ان کے کیریر کےپہلے نیشنل ایوارڈ اور خیام کو بہترین موسیقار کے نیشنل ایوارڈ بھی نوازا گیا۔
اسی سال فاروق شیخ کے فلمی کیریئر کی ایک اور سپر ہٹ فلم چشمےبددور ریلیز ہوئی۔ سائی پرانجپے کی ہدایت میں بنی اس فلم میں فاروق کی اداکاری کا نیا رنگ دیکھنے کو ملا۔ اس فلم سے پہلے ان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ صرف سنجیدہ کردار ادا کرنے میں ہی مہارت رکھتے ہیں لیکن اس فلم سے انهوں نے اپنی زبردست مزاحیہ اداکاری سے ناظرین کے دل جیت لئے۔ سال 1982میں ان کے فلمی کیریئر کی ایک اور اہم فلم بازار پردہ سمیں کی زینت بنی۔ ساگر سرحدی کی ہدایت میں بنی اس فلم میں ان کے مد مقابل آرٹ فلموں مایہ ناز شخصیات سمیتا پاٹل اور نصيرالدين شاہ تھیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے کردار سے ناظرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب رہے ۔
سال 1983ءمیں فاروق شیخ کو ایک بار پھر سائی پرانجپے کی فلم كتھا میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کی کہانی میں جدید کچھوے اور خرگوش کے درمیان دوڑ کی لڑائی کو دکھایا گیا تھا، اس میں وہ خرگوش کے کردار میں دکھائی دیے جبکہ نصيرالدين شاہ كچھوے کے کردار میں نظر آئے ۔ اس فلم میں انہوں نے کسی حد تک منفی کردار ادا کیا، اس کے باوجود وہ شائقین کے دل جیتنے میں کامیاب رہے۔
فلموں میں ان کی اصل پہنچان متوازی سنیما یا تجرباتی سنیما سے تھی انہوں نے ستیہ جیت رے، مظفر علی، ہری کیش مکھرجی اور کیتن مہتا جیسے ہدایتکاروں کے ساتھ کام کیا تھا۔انتہائی ذہین اور باصلاحیت فاروق شیخ کی اصل شخصیت فلم بازار میں ،ان کے ’بھولے بھالےکریکٹر‘ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی۔
انہوں نے آرٹ فلموں کی کم وبیش تمام معروف ہیروئنوں کے ساتھ کام کیا۔ فاروق شیخ کے فلمی کیریئر میں ان کی جوڑی اداکارہ دپتی نول کے ساتھ کافی پسند کی گئی ہے۔ سب سے پہلے سلور اسکرین پر یہ جوڑی سال 1981کی فلم چشمےبددور میں نظر آئی۔ اس کے بعد اس جوڑی نے ساتھ ساتھ کسی سے نہ کہنا، کہانی، ایک بار چلے آؤ، ’کتھا، رنگ برنگی ، فاصلے اور’ٹیل می او خدا‘ میں بھی ناظرین کے دل جیتے۔ فاروق نے شبانہ اعظمی کے ساتھ بھی کئی فلمیں کیں جن میں ہدایت کار ساگر سرحدی کی’لوری‘، کلپنا لازمی کی ’ایک پل‘ اور مظفر علی کی’ انجمن‘ شامل ہیں۔
ہندی فلمی دنیا میں فاروق شیخ ان چنندہ اداکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے فلم کی تعداد کے بجائے اس کے معیار پر زیادہ توجہ دی۔ اسی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے چار دہائیوں پر مشتمل فلمی كیرير میں تقریباً 44 فلموں میں ہی کام کیا۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں طوفان ، ’ساتھ ساتھ‘کلب سکسٹی، شنگھائی، لاہور، بیوی ہو تو ایسی، ساگر، میرے ساتھ چل، بازار، کسی سے نہ کہنا، رنگ برنگی، سلمی، فاصلے، کھیل محبت کا شامل ہیں۔
سال 1987ءکی فلم بیوی ہو تو ایسی ہیرو کے طور پر فاروق شیخ کے فلمی کیریئر کی آخری فلم تھی۔ اس فلم میں انہوں نے اداکارہ ریکھا کے ساتھ کام کیا۔ نوے کی دہائی میں انہوں نے مناسب کردار نہ ملنے پر فلموں میں کام کرنا کافی حد تک کم کر دیا۔ سال 1997ءکی محبت كے بعد انہوں نے تقریباً دس سال تک فلم انڈسٹری سے کنارہ کر لیا۔
90؍کی دہائی میں فاروق شیخ نے ناظرین کی پسند کا خیال کرتے ہوئے چھوٹے پردے کا بھی رخ کیا اورایک مشہور ٹی وی شو ’’جینا اسی کا نام ہے‘‘کی میزبانی بھی کی۔ اس کے علاوہ کئی سریلوں میں کام کیا جن میں چمتکار اور جی منتری جی جیسے مزاحیہ سیریل میں اپنی بہترین اداکاری سے ناظرین کی بھرپور تفریح کی۔ فاروق شیخ نے 2008 میں تقریباً آٹھ سال کے وقفے کے بعد فلموں میں دوبارہ اداکاری شروع کی۔ سال 2010 میں انہیں فلم ‘ لاہور ‘میں بہترین معاون اداکار کے لیے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ۔ وہ اپنی موت تک فلموں سے وابستہ رہے ۔ آخر کے دنوں میں انہوں نے سال 2013 کی ہٹ فلم ‘ یہ جوانی ہے دیوانی’ میں کام کیا ۔ ان کی آخری فلم کلب 60 تھی جو دسمبر2013 میں ریلیز ہوئی تھی۔
اپنی لاجواب، سنجیدہ، مزاحیہ اور دلفریب اداکاری سے ناظرین کو رجھانے والے فاروق شیخ 28 دسمبر 2013ءکو 65 برس کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ آج فاروق شیخ ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن سماج کے لئے ان کا دردمندانہ رویہ ہمیں اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ ہم چاہے کتنی بھی بلندی پر پہنچ جائیں‘ بحیثیت انسان پریشان حال اور دنیا کے ستائے لوگوں کی مدد کرنی چاہئے۔مختصر یہ کہ ایک فن کارمیں فن اور انسانیت نوازی کے اعلاترین امکانات کس طرح تجسیم پاتے ہیں‘فاروق شیخ اس کی بہترین مثال تھے۔ فاروق شیخ کی یاد مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہی گی۔
0
