0

ہندستان نے ‘باہوبلی’ راکٹ سے اب تک کا سب سے بھاری سیٹلائٹ خلا میں بھیجا

نئی دہلی/سری ہری کوٹا (آندھرا پردیش)، 24 دسمبر (یو این آئی) ہندوستان کی ہیوی لانچ وہیکل ایل ایم وی3، جسے باہوبلی کے نام سے جانا جاتا ہے، نے بدھ کو امریکی کمپنی اے ایس ٹی اسپیس موبائل کے جدید مواصلاتی سیٹلائٹ بلیو برڈ-6 کو لانچ کے بعد کامیابی کے ساتھ زمین کے نچلے مدار (ایل ای او) میں قائم کرکے ہندوستان کی تجارتی خلائی صلاحیتوں میں ایک اور اہم سنگ میل حاصل کیا۔
اس لانچ نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا کیونکہ یہ کسی ہندوستانی راکٹ کے ذریعہ لے جایا گیا اب تک سب سے ہیوی سیٹلائٹ تھا۔ اس مشن کا مقصد براڈ بینڈ سگنلز کو براہ راست خلا سے عام اسمارٹ فونز تک پہنچانا ہے، جس سے خصوصی آلات کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔
تقریباً 24 گھنٹے کی ہموار الٹی گنتی کے بعد، 43.5 میٹر لمبا، 640 ٹن کے ایل ایم وی3 راکٹ صبح 0855 بجے کے قریب ستیش دھون اسپیس سینٹر (ایس ڈی ایس سی) سری ہری کوٹا رینج کے دوسرے لانچ پیڈ سے روانہ ہوا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کامیاب لانچ کی ستائش کی اور اسے ہندوستان کے خلائی سفر میں ایک “قابل فخر حصولیابی” قرار دیا۔
سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں، مسٹر مودی نے کہا، “ہندوستان کے خلائی شعبے میں ایک اہم قدم۔ کامیاب ایل وی ایم-ایم6 لانچ، جس نے ہندوستانی سرزمین سے لانچ کیے گئے اب تک کے سب سے بھاری سیٹلائٹ، امریکی خلائی جہاز بلیو برڈ بلاک-2، کو اس کے مقرر کردہ مدار میں رکھا، یہ ہندوستان کے خلائی سفر میں ایک قابل فخر کامیابی ہے۔”
اس کے لانچ میں مقررہ 08:54 بجے سے تقریباً 90 سیکنڈ کی تاخیر ہوئی۔ جو ایک معمول کی احتیاط کے طور پر کیا گیا تھا۔ یہ عام طور پر ممکنہ خلائی ملبے سے بچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اڑان بھرنے سے 15 منٹ قبل آٹومیٹمک لانچ سیکونس شروع ہونے کے بعد، راکٹ ٹھیک وقت پر اوپر اٹھا اور چم کدار نارنگی رنگ کے دھویں کے غبار چھوڑے۔
اسرو کے چیئرمین اور محکمہ خلاء کے سکریٹری ڈاکٹر وی نارائنن نے مشن کنٹرول سینٹر سے سائنسدانوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکی سیٹلائٹ کو کامیابی سے اور درست طریقے سے اس کے مقرر کردہ مدار میں رکھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ ایک بڑی حصولیابی ہے۔ گاڑی کے تمام پیرامیٹرز معمول کے مطابق کام کر رہے تھے۔
اسرو کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “52 دنوں کے مختصر عرصے میں یہ دوسرا ایل ایم وی3 مشن ہے۔”
مسٹر نارائنن نے مزید کہا کہ یہ ایل ایم وی کا تیسرا تجارتی مشن تھا اور امریکہ میں قائم اے ایس ٹی اسپیس موبائل کا پہلا سیٹلائٹ شامل تھا۔ انہوں نے ہندوستانی صلاحیتوں پر اعتماد کے لئے کمپنی کا شکریہ ادا کیا اور کہا، “ہمارے پاس آنے والے دنوں میں مزید لانچوں کا منصوبہ ہے۔”
مشن کنٹرول سنٹر میں سائنسدانوں میں اسرو کے سابق چیئرمین، سابق سینئر حکام اور اے ایس ٹی اسپیس موبائل کے نمائندے شامل تھے اور انہوں نے لانچ اڑان کی باریکی سے نگرانی کی۔ ایم ایل وی3-ایم6 نے ایل ایم وی3 کی چھٹی آپریشنل پرواز کو نشان زد کیا اور مسلسل نو کامیاب مشنوں کا اپنا بے عیب ریکارڈ برقرار رکھا۔
اسرو نے کہا کہ اس مشن میں ہندوستانی سرزمین سے لانچ کیا گیا اور مقرر کردہ مدار میں رکھا گیا امریکی مواصلاتی سیٹلائٹ اب تک کا سب سے بھاری پے لوڈ تھا، جس کا وزن 6,100 کلوگرام ہے۔ یہ آپریشنل ہیوی سیٹلائٹ لانچ وہیکل ایل ایم وی3-ایم6 کی چھٹی آپریشنل پرواز اور تیسرا وقف تجارتی مشن ہے۔
یہ مشن خلائی محکمہ کے تجارتی بازو نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل) اور اے ایس ٹی اسپیس موبائل ایل ایل سی، امریکہ کے درمیان ایک تجارتی سمجھوتے کے تحت کیاگیا تھا۔ بلیو برڈ 6 اے ایس ٹی اسپیس موبائل کے عالمی ایل ای او گروپ کا حصہ ہے، جسے ڈائریکٹ ٹو موبائل کنکٹیوٹی سہولت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس سے دنیا میں کہیں بھی 4G اور 5G وائس اور ویڈیو کالز، پیغام رسانی، اسٹریمنگ اور ڈیٹا سروس مل سکے گی۔
اس سیٹلائٹ میں ایک بڑا 223 مربع میٹر کا فیزڈ ایرے ہے، جو اسے نچلے مدار میں تعینات اب تک کا سب سے بڑا تجارتی مواصلاتی سیٹلائٹ بناتا ہے۔
فیزڈ ایرے بہت سے چھوٹے انٹینا یا ٹرانسڈیوسرز کا ایک گروپ ہوتا ہے جو ایک ساتھ کام کرتے ہیں، جس سے بیم (لہروں) کی سمت کو جسمانی طور پر گھمائے بغیر الیکٹرانک طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جس سے اعلی ریزولیوشن، تیز اسکیننگ اور بہتر سگنل پروسیسنگ ملتی ہے، جس کا استعمال ریڈار، سیٹلائٹ کمیونیکیشنز (جیسے بلیو برڈ) اور میڈیکل امیجنگ (الٹراساؤنڈ) میں ہوتا ہے۔
اے ایس ٹی اسپیس موبائل کے مطابق اس کا نیٹ ورک دنیا کا پہلا اسپیس پر مبنی براڈ بینڈ سسٹم ہے جسے کمرشل اور سرکاری دونوں طرح کے صارفین کے لیے معیاری اسمارٹ فونز سے براہ راست جوڑنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
کمپنی کے بانی، چیئرمین، اور سی ای او، ایبل ایولن، پہلے کہہ چکے ہیں کہ اگلی نسل کے سیٹلائٹ خلا سے ہر جگہ سیلولر براڈ بینڈ کو ممکن بنائیں گے۔ کمپنی 2026 کے آخر تک 45 سے 60 سیٹلائٹس کو تعینات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
غور طلب ہے کہ ایل ایم وی3، جو پہلے جی ایس ایم وی ایم کے3 کے نام سے جانا جاتا تھا، کو تیلگو میڈیا نے “باہوبلی” نام دیا ہے، جو بلاک بسٹر فلم باہوبلی سے متاثر ہے، جس میں ہیرو آسانی سے ایک بہت بڑا شیولنگ اٹھاتا ہے۔ یہ غیر سرکاری جملہ بدھ کو سرکاری طور پر اپنایا گیا جب ڈاکٹر نارائنن نے مشن کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے لانچ گاڑی کو “ایل ایم وی3 باہوبلی راکٹ” کہا۔
تین مراحل پر مشتمل ایل ایم وی3 دو ٹھوس سٹریپ آن بوسٹرز، ایک مائع کور اسٹیج اور ایک سی 25 کرائیوجینک اپر اسٹیج پر مشتمل ہے۔ یہ فی الحال تقریباً 10 ٹن نچلے مدار میں اور چار ٹن تک بیضوی مدار میں لے جا سکتا ہے اور اس کی جی ٹی او صلاحیت کو بڑھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اس مشن کے ساتھ، ات ایس ٹی اسپیس موبائل، لانچ وہیکل ایل ایم وی 3 پر اڑان بھرنے والا دوسرا اپگریڈ براڈ بینڈ صارف بن گیا ہے۔ اس سے قبل یوٹیلسیٹ ون ویب نے 2022 اور 2023 میں اس لانچ وہیکل کا استعمال کرتے ہوئے 72 سیٹلائٹ لانچ کیے تھے۔
بلیو برڈ 6 کا کامیاب لانچ تجارتی بھاری لانچ مارکیٹ میں ایک قابل اعتماد عالمی کھلاڑی کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں