0

یوم جمہوریہ سے قبل وادی میں سخت ترین سکیورٹی، بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کا شاندار انعقاد

سری نگر،24جنوری (یو این آئی) یومِ جمہوریہ کی تقریب سے قبل وادی کشمیر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے درمیان ہفتے کو فل ڈریس ریہرسل کا اہتمام کیا گیا، جس کے ساتھ ہی پورے خطے میں حفاظتی چوکسیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں۔ سری نگر کے تاریخی بخشی اسٹیڈیم میں منعقدہ مرکزی ریہرسل میں بری، بحری اور فضائی فورسز کے دستوں نے شرکت کی، جبکہ شہر وادی کے دیگر اضلاع میں بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ رہا۔ حکام کے مطابق رواں برس سیکورٹی ایجنسیوں نے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کوئی بھی کسر باقی نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ 26 جنوری کو ہونے والی سرکاری تقاریب پرامن ماحول میں انجام پا سکیں۔
سری نگر شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں، اہم شاہراہوں اور حساس مقامات پر اضافی ناکے، کمانڈو چوکیاں اور چیکنگ پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں۔
پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر نیم فوجی دستوں نے مشترکہ طور پر فلیگ مارچ کیا، جس میں بکتر بند گاڑیاں اور جدید ہتھیاروں سے لیس اہلکار شامل تھے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ وادی میں کسی بھی ممکنہ تخریبی سرگرمی کو ناکام بنانے کے لیے ملٹی لیئر سیکیورٹی گرڈ قائم کیا گیا ہے اور فضائی نگرانی کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
ہفتے کی صبح بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کا باضابطہ آغاز ہوا، جس میں ڈویژنل کمشنر کشمیر، آئی جی پی کشمیر، ضلعی انتظامیہ کے افسران، پولیس، سی آر پی ایف، ایس ڈی آر ایف، فائر اینڈ ایمرجنسی، جے کے ایس پی او اور دیگر محکموں کے سینکڑوں اہلکار موجود تھے۔
ریہرسل کا آغاز مارچ پاسٹ سے ہوا، جس میں اسکولوں کے دستے، پولیس بینڈ، جے کے پولیس کے خصوصی یونٹس اور نیم فوجی دستوں نے سلامی پیش کی۔ اس موقع پر ثقافتی پروگراموں میں کشمیر، جموں اور لداخ کی مختلف روایات کو رقص اور لوک گیتوں کے ذریعے پیش کیا گیا۔ بچوں نے حب الوطنی کے نغمے پیش کیے۔
اسٹیڈیم کے اطراف سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ داخلی راستوں پر شناخت کی جانچ لازمی تھی جبکہ ڈرونز اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی رہی۔
ذرائع کے مطابق سرینگر پولیس نے تقریب کے سلسلے میں شہر کو مختلف کمانڈ زونز میں تقسیم کیا ہے، جہاں ایس ایس پی کے ماتحت ایس پیز اور ڈی ایس پیز کو خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اہم مقامات جیسے ریگالی چوک، ڈلگیٹ، جہانگیر چوک، لالچوک، کرن نگر، صدر کوٹھی اور ایئرپورٹ روڈ پر خصوصی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔
وادی کے جنوبی اضلاع —— اننت ناگ، پلوامہ، شوپیان اور کولگام —— میں بھی سیکیورٹی فورسز نے خصوصی ناکے قائم کیے ہیں۔ اننت ناگ میں ڈی آئی جی ساؤتھ کشمیر کی ہدایات پر حساس دیہات میں سرچ آپریشنز تیز کر دیے گئے ہیں۔ پلوامہ میں پولیس نے اہم چوکوں پر اضافی نفری تعینات کی ہے جبکہ شوپیان میں سی آر پی ایف اور آرمی کے مشترکہ دستے فلیگ مارچ کر رہے ہیں۔
شمالی کشمیر کے اضلاع—— بارہمولہ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ —— میں بھی لائن آف کنٹرول کے نزدیک تعینات فوج کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔ بارہمولہ میں سیاحتی مقامات، خصوصاً گلمرگ، میں بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے کیونکہ یوم جمہوریہ کے موقع پر سیاحوں کی آمد میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
اس دوران، ٹریفک پولیس نے بھی خصوصی ایڈوائزری جاری کی ہے جس کے مطابق بخشی اسٹیڈیم کے اطراف اور شہر کے مرکزی علاقوں میں کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی نقل و حرکت محدود رہے گی۔
اسٹیڈیم کی طرف جانے والی متعدد شاہراہیں عارضی طور پر بند رہیں گی جبکہ متبادل راستوں کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ٹریفک حکام کے مطابق:’سیکیورٹی انتظامات کے پیش نظر عوام سے گزارش ہے کہ وہ حکومتی ایڈوائزری پر عمل کریں تاکہ کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘
انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکورٹی محاذ پر جاری کوششوں میں تعاون کریں، شناختی دستاویزات ساتھ رکھیں اور کسی بھی مشکوک نقل و حرکت کی فوراً اطلاع نزدیکی پولیس اسٹیشن کو دیں۔ سماجی رابطہ سائٹس پر بھی افواہ پھیلانے والے عناصر کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں