سی بی آئی کا جموں و کشمیر سمیت 5 ریاستوں کے افسران کے خلاف کیس درج
سرینگر//17مارچ/ مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے معذور طلبہ کے لیے مختص اسکالرشپ فنڈ میں مبینہ طور پر 11.4 کروڑ روپے کی خرد برد کے معاملے میں جموں و کشمیر سمیت پانچ ریاستوں کے نامعلوم سرکاری افسران اور نوڈل افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔حکام کے مطابق یہ رقم معذور طلبہ کے لیے جاری کی جانے والی اسکالرشپ اسکیم کے تحت مختص کی گئی تھی تاہم ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ جعلی مستفیدین اور غیر موجود تعلیمی اداروں کے ذریعے اس رقم کو نکالا گیا۔ یہ اسکیم امبریلا اسکالر شپ اسکیم فار اسٹوڈنٹس وتھ ڈس ایبلٹیس پورٹل کے ذریعے نافذ کی جا رہی تھی۔سی بی آئی کی ایف آئی آر میںجموں کشمیر کے علاوہ دہلی،تامل ناڈو،اتر پردیش اور کرناٹکا کے سرکاری اہلکاروں اور نوڈل افسران کے نام شامل کیے گئے ہیں جن پر مبینہ بدعنوانی میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب محکمہ بااختیار یِ معذوراں جو کہ وزارت سماجی انصاف و با اختیاری کے تحت کام کرتا ہے، نے شکایت درج کرائی۔ شکایت میں بتایا گیا کہ تقریباً 11.41 کروڑ روپے کی رقم 926 طلبہ کے نام پر جاری کی گئی جو 28 ایسے تعلیمی اداروں سے منسلک دکھائے گئے جو یا تو وجود ہی نہیں رکھتے تھے یا معائنوں کے دوران ان میں سنگین بے ضابطگیاں پائی گئیں۔یو این ایس کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ اسکالرشپ پورٹل پر درج کئی ادارے یا تو بند ہو چکے تھے یا سرے سے موجود ہی نہیں تھے، اس کے باوجود طلبہ کے نام پر درخواستیں جمع کروا کر رقم نکالی جاتی رہی۔ اس مقصد کے لیے مبینہ طور پر جعلی یوزر آئی ڈیز بنا کر درخواستیں داخل کی گئیں۔ایک مثال میں جموں و کشمیر کا ستیم کالج آف ایجوکیشن جو مبینہ طور پر 2017 میں بند ہو چکا تھا، کو پورٹل پر فعال دکھا کر طلبہ کے نام پر اسکالرشپ حاصل کی گئی۔سی بی آئی کو شبہ ہے کہ بعض اداروں کے نوڈل افسران، سرکاری اہلکاروں اور دیگر افراد نے ملی بھگت سے جعلی درخواستیں پورٹل کے ذریعے منظور کروائیں جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔ اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
