0

وزارت داخلہ نے کیا 509 میں سے 300 کاتاحال لاپتہ ہونے کا انکشاف
مرکزی حکومت کی جانب سے ٹریسنگ نظام مزید مضبوط بنانے پر زور
سرینگر//25مارچ / جموں و کشمیر میں کمسن بچیوں کے لاپتہ ہونے کا مسئلہ تشویشناک رخ اختیار کر گیا ہے، جہاں 2023 تک مجموعی طور پر 509 بچیوں کے لاپتہ ہونے کے کیسز درج کئے گئے، جن میں سے صرف 209 کو تلاش کیا جا سکا جبکہ 300 تاحال لاپتہ ہیں۔یہ اعداد و شمار ’این سی آر بی‘کی جانب سے مرتب کیے گئے ہیں اور وزارت داخلہ کے ذریعے لوک سبھا میں پیش کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار نئے اور گزشتہ برسوں کے زیر التوا کیس دونوں کو شامل کرتے ہیں، جو حل طلب معاملات کے بڑھتے بوجھ کی عکاسی کرتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2022 میں 502 بچیوں کے لاپتہ ہونے کے کیس سامنے آئے، جن میں سے 275 کو تلاش کر لیا گیا جبکہ 227 لاپتہ رہیں۔ اسی طرح 2021 میں 443 کیس درج ہوئے، جن میں 188 بچیوں کو بازیاب کیا گیا جبکہ 255 کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل سکا۔یو این ایس کے مطابق وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ اس طرح کے اعداد و شمار ہر سال این سی آر بی کی ”کرائم ان انڈیا“رپورٹ میں شائع کیے جاتے ہیں، تاہم لاپتہ بچیوں کے خلاف جرائم کی علیحدہ تفصیلات برقرار نہیں رکھی جاتیں۔حکومت نے اس مسئلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان اور پولیسنگ کا دائرہ کار ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کے تحت آتا ہے، اس لیے جموں و کشمیر انتظامیہ ان معاملات کی تحقیقات اور قانون نافذ کرنے کی ذمہ دار ہے۔تاہم مرکزی حکومت نے بتایا کہ لاپتہ بچوں کی تلاش کیلئے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں، جن میںچائلڈ ٹریک پورٹل اور کھویا،پا پلیٹ فارم شامل ہیں، جو مشن وتسالیہ کے تحت کام کرتے ہیں اور کرائم اینڈ کرئمنل ٹریکنگ نیٹ ورک اینڈ سسٹم کے ساتھ منسلک ہیں تاکہ مختلف علاقوں میں کیسز کی فوری نشاندہی ممکن ہو سکے۔اس کے علاوہ تمام لاپتہ بچوں کے کیسوںمیں ایف آئی آر کا اندراج لازمی قرار دیا گیا ہے اور ابتدائی طور پر اغوا یا انسانی اسمگلنگ کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ 24 گھنٹے فعال چائلڈ ہیلپ لائن (1098) کو ایمرجنسی رسپانس سسٹم (112) کے ساتھ جوڑا گیا ہے جبکہ اضلاع میں اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹوں کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے۔وزارت نے مزید بتایا کہ مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کیلئے کرائم ملٹی ایجنسی سینٹر کو فعال بنایا گیا ہے، جبکہ بھارتیہ نیائے سسٹم کے تحت بچوں کے خلاف جرائم کیلئے سخت سزاو ¿ں کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔حکام کے مطابق یہ اقدامات لاپتہ بچوں کی بازیابی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے کئے جا رہے ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی اور فوری توجہ کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں