سری نگر،5 اکتوبر(یو این آئی) وادی بھر میں پیران پیر حضرت شیخ سعید عبدالقادر جیلانی(رح)کا سالانہ عرس عقیدت و احترام اور تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا۔عرس کی مرکزی تقریب خانیار سرینگر میں واقع آستانہ عالیہ دستگیر صاحب پر منعقد ہوئی جہاں ہفتہ کی شام سے ہی زائرین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اتوار کی صبح تک ہزاروں عقیدت مند درگاہ میں داخل ہونے کے منتظر نظر آئے۔ اگرچہ بارش نے موسم کو مزید سرد بنا دیا، مگر زائرین کی عقیدت میں کوئی کمی نہ آئی۔ شب کے دوران قرآن خوانی، نعتیہ خوانی، درود و سلام اور ذکر و اذکار کا سلسلہ پوری رات جاری رہا۔
زائرین میں شامل 65 سالہ حاجی غلام نبی بٹ، جو بڈگام سے آئے تھے، نے یو این آئی کو بتایا: ’یہاں آنا ہماری زندگی کا سب سے بڑا سکون ہے۔ جب تک ہم درگاہ پر حاضری نہ دیں، ہمیں اپنی روح ادھوری لگتی ہے۔‘ اسی طرح پلوامہ سے آئی ایک خاتون زائرہ، شاہینہ بیگم، نے کہا: ’ہم خواتین کے لئے موئے مبارک کی زیارت سب سے بڑی سعادت ہے۔ اس لمحے کی خوشی کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘
عرس کی روحانی فضا اس وقت عروج پر پہنچی جب اتوار کو نماز پنجگانہ کے بعد عقیدت مندوں کو موئے مبارک کی زیارت نصیب ہوئی۔ آستانہ عالیہ کے صحن اور گلی کوچے ’اللہ اکبر‘ اور ’یا غوث الاعظم‘ کے نعروں سے گونج اٹھے۔ ہزاروں زائرین نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اور دلوں کی گہرائیوں سے اپنی مرادیں مانگیں۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی(رح) بارہویں صدی کے عظیم صوفی اور سلسلہ قادریہ کے بانی تھے جن کی تعلیمات آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں عقیدت مندوں کے لئے روشنی کا مینار ہیں۔ عراق کے بغداد میں مدفون یہ بزرگ ’غوث الاعظم‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔ کشمیر میں ان کے فیوض و برکات صدیوں سے رائج ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے عرس کے موقع پر وادی کے ہر گوشے میں ایک روحانی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔
عرس کے موقع پر جموں و کشمیر وقف بورڈ نے خصوصی انتظامات کئے تھے۔ آستان کے احاطے اور اطراف میں روشنی، پانی اور صفائی ستھرائی کے لئے اضافی عملہ تعینات کیا گیا۔ طبی سہولیات کی خاطر عارضی کیمپ لگائے گئے جبکہ ٹریفک پولیس نے زائرین کی آمدورفت کو آسان بنانے کے لئے خصوصی پلان مرتب کیا۔
وقف بورڈ کے ایک اہلکار نے بتایا: ’بارش کے باعث کچھ دشواریاں ضرور آئیں، لیکن زائرین کی سہولت کے لئے ہر ممکن قدم اٹھایا گیا۔ ہم نے خواتین کے لئے الگ قطاریں بھی بنائی تھیں تاکہ انہیں دشواری نہ ہو۔‘
عرس کی تقریبات کے دوران متعدد علما نے اپنے خطابات میں کہا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی(رح) نے اپنی زندگی سے امت کو اخوت، بھائی چارے اور تقویٰ کا درس دیا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: ’آج کے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو صوفیائے کرام کی تعلیمات سے روشناس کرائیں، تاکہ معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکے۔‘
اگرچہ سب سے بڑا اجتماع خانیار میں ہوا، تاہم وادی کے دیگر اضلاع میں بھی مختلف مساجد اور خانقاہوں میں عرس کے موقع پر محافل ذکر منعقد ہوئیں۔ سوپور، اننت ناگ، بڈگام اور کپوارہ میں بھی چھوٹے بڑے اجتماعات دیکھنے کو ملے۔
عرس کے موقع پرخانیار کے اطراف میلے جیسا سماں دیکھنے کو ملا۔ دکانداروں نے عارضی اسٹالز لگا کر زائرین کے لئے کھانے پینے کی اشیاء، مذہبی کتب اور تسبیح و عطر فروخت کئے۔ بچے رنگ برنگے غبارے خریدتے دکھائی دئیے، جبکہ خواتین کی بڑی تعداد درگاہ کے اندرونی حصے میں مصروف ذکر رہی۔
پیرانِ پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی(رح) کا سالانہ عرس کشمیر کے عوام کے دلوں میں ان کی لازوال محبت اور عقیدت کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ خانیار کی درگاہ میں ہونے والا یہ اجتماع اس بات کا مظہر ہے کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات آج بھی وادی کے روحانی اور سماجی ڈھانچے کی بنیاد ہیں۔
0
