سری نگر،3دسمبر(یو این آئی) شہرکے نواحی علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری جنگلی ریچھ کی تلاش کا سلسلہ مزید الجھ گیا ہے۔ ریچھ کی غیرمتوقع نقل و حرکت نے جہاں شہریوں میں شدید خوف کی لہر دوڑا دی ہے، وہیں وائلڈ لائف حکام مسلسل کوششوں کے باوجود اسے قابو کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔ تازہ واقعے میں ریچھ کو گزشتہ شام نگین جھیل میں غوطے لگاتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد رات بھر آپریشن جاری رہا، مگر حکام کے مطابق اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
ریچھ کو سب سے پہلے 26 نومبر کو کشمیر یونیورسٹی کے قریب دیکھا گیا تھا، جہاں اس نے ہوسٹل کے سامنے آوارہ کتّوں کے جھُنڈ سے بچنے کے لیے بھاگ دوڑ بھی کی تھی۔ اس کے بعد اسے سکمزصورہ کے احاطے اور شہر کے کئی دیگر مقامات پر بھی دیکھا جاتا رہا، جس کے باعث شہری علاقوں میں سنسنی پھیل گئی۔ وائلڈ لائف محکمہ کا کہنا ہے کہ ریچھ شہروں میں آنے کے بعد غیرمتوقع راستے اختیار کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
محکمہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ رات کے وقت بیس سے زائد اہلکاروں کی ٹیم ٹرنکولائزر گنز، کیجز، نائٹ وژن ڈیوائسز اور ٹریپنگ آلات کے ساتھ مسلسل آپریشن چلا رہی ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ ریچھ کو محفوظ طریقے سے پکڑا جائے، تاکہ نہ عوام کو نقصان پہنچے اور نہ ہی جانور کو کوئی چوٹ آئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دن کے اوقات میں دس سے زائد اہلکار مختلف مقامات پر اس کے ممکنہ راستوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ ریچھ مسلسل حرکت میں ہے، اس کی لوکیشن ہر چند گھنٹوں بعد بدل جاتی ہے، جس سے کارروائی مزید چیلنجنگ ہو جاتی ہے۔
گزشتہ شام نگین جھیل میں ریچھ کے اچانک نمودار ہونے نے لوگوں کو حیران بھی کیا اور خوفزدہ بھی۔ عینی شاہدین کے مطابق ریچھ پانی میں باقاعدہ غوطے لگاتا ہوا ساحل کے قریب دیکھا گیا، جس کے فوراً بعد وائلڈ لائف ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور پوری رات بھر سرچ آپریشن جاری رہا، مگر ریچھ جھیل سے نکل کر کہاں گیا، اس بارے میں کوئی معتبر اطلاع سامنے نہیں آ سکی۔
حکام نے تاکید کی ہے کہ لوگ رات کے وقت نقل و حرکت محدود رکھیں اور کسی بھی مشاہدے کی فوراً اطلاع انتظامیہ یا وائلڈ لائف محکمہ کو دیں۔
وائلڈ لائف محکمہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ شہری علاقوں میں جنگلی حیات کے بڑھتے ہوئے داخلے کی سنگین صورتحال کی طرف اشارہ کرتا ہے اور سرینگر جیسے گنجان علاقے میں ایسے جانوروں کی موجودگی انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
ایک ہفتے سے جاری اس مسلسل مشن کے باوجود ریچھ کے لاپتہ رہنے نے حکام کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ شہری اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ریچھ کسی بھی وقت کسی نئی جگہ منظرِ عام پر آ سکتا ہے۔
0
