جموں،4 دسمبر(یو این آئی) جموں و کشمیر پولیس نے ایک بڑی کارروائی کے دوران سرحد پار سے چلنے والے منشیات کے ریکیٹ کو بے نقاب کرتے ہوئے چھ افراد کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضے سے تقریباً پانچ کلوگرام ہیروئن اور تین پستول برآمد کئے ہیں۔ حکام کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں ضبط شدہ منشیات کی قیمت 30 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
سپرانٹنڈنٹ آف پولیس ساؤتھ زون جموں، اجے شرما نے جمعرات کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ ایک منظم نارکو ٹیرر نیٹ ورک تھا جو پاکستان میں موجود ہینڈلرز سے براہِ راست رابطے میں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل فوٹ پرنٹس کی جانچ کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ ملزمان سرحد پار پاکستان میں موجود ڈرگ سپلائرز سے رابطے میں تھے، جن کا مقصد نوجوان نسل کو منشیات کے ذریعے تباہ کرنا اور ملک کے خلاف غیر روایتی جنگ کو مزید آگے بڑھانا تھا۔
ایس پی شرما کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران کرن شرما اور نکلیش ورما کو گرفتار کیا گیا جن کے قبضے سے 3.26 کلوگرام ہیروئن برآمد ہوئی۔
اس کے بعد پولیس نے کارروائی کو وسعت دیتے ہوئے محمد یوسف نروال، جموں، مالی معاون گلشن کمار ساکن راجوری اور جسوِندر کمار ساکن نوشہرہ کو بھی گرفتار کیا جن کے پاس سے مزید منشیات برآمد ہوئی۔
مزید تفتیش کے دوران پولیس نے شم الدین نکی تاوی، جموں کے گھر پر چھاپہ مارا جہاں سے 619 گرام ہیروئن، ایک پستول اور زندہ راؤنڈ برآمد کئے گئے۔
ایک اور ملزم عبدالحمید آر ایس پورہ تاحال فرار ہے، تاہم اس کے گھر سے دو پستول، جن میں ایک خودکار پستول بھی شامل ہے، اور بھاری تعداد میں گولیاں ملی ہیں۔
ایس پی کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف منشیات کی اسمگلنگ بلکہ ملک کے خلاف ایک منظم ’نارکو ٹیررازم‘ نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے ساتھ ساتھ یو اے پی اے کی دفعات بھی عائد کی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار شدہ افراد میں زیادہ تر وہ ہیں جو بھارت-پاک سرحد کے نزدیک رہائش پذیر ہیں اور اس ریکیٹ کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ فرار ملزم کی تلاش اور اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ روابط کا پتہ لگانے کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
0
