سری نگر، 5 دسمبر(یو این آئی) جموں و کشمیر کے دونوں مصروف ہوائی اڈوں ،سرینگر اور جموں پر جمعہ کے روز شدید افراتفری دیکھنے کو ملی جب انڈیگو کی مجموعی طور پر 40 سے زائد پروازیں اچانک منسوخ کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں مسافر شدید مشکلات، غم و غصے اور بے بسی کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے۔ ایئرلائن کی جانب سے مناسب معلومات اور مدد فراہم نہ کیے جانے کے خلاف مسافروں نے دونوں ایئرپورٹس پر احتجاج بھی کیا۔
حکام کے مطابق سرینگر ایئرپورٹ پر انڈیگو کی 36 پروازیں شیڈول تھیں جن میں 18 آمد اور 18 روانگی کی پروازیں شامل تھیں، لیکن پائلٹ روسترنگ کے مسئلے کے باعث 13 آمد اور 13 روانگی کی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ اچانک منسوخی کے بعد ٹرمینل پر احتجاجی ہنگامہ آرائی ہوئی، تاہم صورتحال کو کچھ دیر بعد قابو میں کر لیا گیا۔
متعدد مسافروں نے الزام عائد کیا کہ ایئرلائن نے کسی قسم کی بروقت اطلاع یا متبادل انتظام فراہم نہیں کیا۔ کولکتہ کے مسافر رشب کمار نے بتایا کہ وہ گزشتہ روز کولکتہ سے سرینگر لائے گئے تھے اور انہیں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ سرینگر پہنچتے ہی دہلی کے لیے کنیکٹنگ فلائٹ دستیاب ہوگی، مگر یہاں پہنچ کر نہ ایئرلائن اور نہ ایئرپورٹ حکام نے کوئی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ چار گھنٹے تک ایئرپورٹ پر دربدر بھٹکتے رہے لیکن نہ کوئی وضاحت ملی نہ کوئی حل۔
اسی طرح کیرالہ سے آئے ایک جوڑے نے بھی شکایت کی کہ گھر میں اہم تقریب ہونے کے باوجود انہیں واپس جانے کے لیے اگلے دو روز تک کوئی فلائٹ دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچانک منسوخی کے باعث انہیں ہوٹل واپسی اور اضافی اخراجات کا بھی سامنا ہے۔
ادھر جموں ایئرپورٹ پر بھی حالات مختلف نہ تھے جہاں انڈیگو نے 11 پروازیں منسوخ کیں جس کے بعد طویل قطاریں، بے چینی اور مسافروں کا غصہ دیکھنے کو ملا۔ ممبئی کی رہائشی کیرتی نے کہا کہ دو گھنٹوں سے معلومات کے لیے کھڑی ہیں مگر ایئرلائن کی جانب سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ ایک اور مسافر، آرٹی رزدان، جو بچوں کے ہمراہ بنگلورو واپس جانا چاہتی تھیں، نے بتایا کہ ان کی پرواز مسلسل تین دن سے منسوخ کی جارہی ہے اور ان کے بیٹے کا امتحان بھی متاثر ہوا۔
ایئرپورٹ حکام نے اعتراف کیا کہ وہ خود بھی صورتحال سے پریشان ہیں۔ مسافر ہم پر غصہ نکال رہے ہیں لیکن ہمیں جو معلومات دی جاتی ہیں وہی آگے پہنچاتے ہیں۔
قومی سطح پر انڈیگو کو گزشتہ چند دنوں سے پائلٹ روسترنگ کے باعث شدید آپریشنل بحران کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر کے ایئرپورٹس پر بڑی تعداد میں مسافر دو سے تین دن تک پھنسے ہوئے ہیں جبکہ پروازوں کی منسوخی کا سلسلہ جاری ہے۔
0
