0

سکمز فائلیں حکومت تک نہیں پہنچ رہیں، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا سخت اعتراض

سری نگر، 5دسمبر(یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) صورہ کی انتظامی کارروائیوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے سے متعلق فائلیں نہ ان تک پہنچ رہی ہیں اور نہ ہی ان کی کابینی ساتھی، وزیر صحت و میڈیکل ایجوکیشن سکینہ ایتو کے پاس بھیجی جا رہی ہیں۔
سکمز کے 43ویں سالانہ یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے ادارے کی فائلنگ سسٹم پر سوال اٹھایا اور کہا کہ منتخب نمائندوں کو تقاریب میں مدعو کرنا لیکن انہیں انتظامی فیصلوں سے دور رکھنا ناقابل فہم ہے۔
انہوں نے کہا، ’مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ ہمیں بلانے کا کیا مطلب ہے جب سکمز سے متعلق فائلیں نہ میرے پاس آتی ہیں اور نہ وزیر صحت کے پاس۔ پھر میں نے سوچا کہ ہم کیوں سکمز، اس کے فیکلٹی اور یہاں موجود عملے کو سزا دیں؟ اس لیے میں آیا ہوں۔‘
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ سینئر بیوروکریٹس تقریب میں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کیوں نہیں آئے۔ شاید انہیں ہدایت دی گئی ہوگی کہ شریک نہ ہوں۔
تقریب کے دوران عمر عبداللہ نے سکمز انتظامیہ کو ایک بڑے پراجیکٹ کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت اس کے لیے فنڈز فراہم کرنے میں ہر ممکن تعاون کرے گی۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ ڈائریکٹر صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر ایسا کوئی بڑا منصوبہ منتخب کریں جو براہِ راست مریضوں کو فائدہ پہنچائے۔ حکومت کسی ایسی اسکیم کے تحت مدد کرے گی جس کے ذریعے 200 سے 250 کروڑ روپے کا پروجیکٹ تین سے چار سال میں مکمل ہوسکے۔
وزیر اعلیٰ نے ریاست میں طبی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور مریضوں کی سہولیات میں توسیع کے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ بیوروکریٹک رکاوٹیں ترقی کی رفتار کو سست نہیں ہونے دیں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سکمز انتظامیہ اور حکومت کے درمیان بہتر تال میل مستقبل میں اس اہم ادارے کے لیے بہتر نتائج لائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں