0

فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز بھرتی گھوٹالہ: ایل جی منوج سنہا نے 103 فائر مین برطرف کر دیے

سری نگر،15دسمبر(یو این آئی) جموں و کشمیر حکومت نے فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز محکمہ میں سال 2020 کے دوران کی گئی بھرتیوں میں سنگین بے ضابطگیوں اور ہیرا پھیری کے انکشاف کے بعد 103 فائر مین کی خدمات فوری طور پر ختم کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی منظوری کے بعد لیا گیا۔
سرکاری حکم نامہ نمبر کے مطابق، یہ کارروائی 2022 میں قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور اینٹی کرپشن بیورو کی تفصیلی تحقیقات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔ انکوائری میں سوالیہ پرچوں کے افشا، او ایم آر شیٹس میں چھیڑ چھاڑ، میرٹ لسٹوں میں رد و بدل اور دیگر سنگین بے ضابطگیوں کی تصدیق ہوئی۔
حکم نامے کے مطابق، انکوائری کمیٹی کی سفارش پر اے سی بی نے ایف آئی آر نمبر 01/2025 درج کر کے مجرمانہ تحقیقات شروع کیں۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ 106 امیدواروں کے حق میں جوابی پرچوں میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری، اسکین شدہ تصاویر کی جعل سازی، ڈیجیٹل چھیڑ چھاڑ اور میرٹ لسٹوں میں غیر قانونی تبدیلیاں کی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان امیدواروں کو ان کی اصل کارکردگی سے کہیں زیادہ نمبر دیے گئے، جبکہ کئی فائدہ اٹھانے والوں نے غیر قانونی رقم ادا کرنے کا اعتراف بھی کیا۔
حکمنامے کے مطابق، 106 میں سے تین امیدواروں کی تقرریاں پہلے ہی لازمی رسمی کارروائیاں مکمل نہ کرنے پر منسوخ کی جا چکی تھیں، جبکہ باقی 103 فائر مین کو اب فوری طور پر برطرف کر دیا گیا ہے۔ حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تقرریاں ابتدا ہی سے غیر قانونی تھیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ تقرریاں دھوکہ دہی اور مجرمانہ طریقوں سے حاصل کی گئیں، اس لیے برطرف کیے گئے افراد کو آئین کے آرٹیکل 311 کے تحت کوئی تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جن کے مطابق فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی سرکاری ملازمتیں محکمانہ انکوائری یا انصاف کے اصولوں کے دائرے میں نہیں آتیں۔
حکومت نے واضح کیا کہ ایسے غیر قانونی طور پر تعینات افراد کو برقرار رکھنا نہ صرف قانون شکنی کو دوام دینا ہوگا بلکہ عوام کے بھرتی نظام پر اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچائے گا۔ چنانچہ یہ 103 افراد فوری طور پر فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز محکمہ کے اسٹیبلشمنٹ سے خارج تصور کیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں