سری نگر، 22 دسمبر (یو این آئی) جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے کشمیر سے متعلق 25 کتابوں کی ضبطی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت 11 فروری 2026 تک ملتوی کر دی ہے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مخالف فریق مناسب وقت دئے جانے کے باوجود اپنا جواب داخل نہیں کر سکا۔
دسمبر کے پہلے ہفتے میں جاری کردہ حکم میں چیف جسٹس ارون پالی ، جسٹس راج نیش اوسوال اور جسٹس شہزاد عظیم پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے نوٹ کیا کہ یونین ٹریٹری انتظامیہ تاحال اس معاملے میں اپنا جواب جمع نہیں کر سکی۔
عدالت نے کہا کہ گرچہ کارروائی ملوتی کرنے کا ‘بمشکل ہی کوئی معقول وجہ’ موجود ہے تاہم سرکاری وکیل کی یقین دہانی پر کیس 11 فروری 2026 تک ملتوی کر دیا گیا کہ اگلی سماعت سے کم از کم تین دن پہلے اعتراضات داخل کر دئے جائیں گے۔
بینچ نے واضح کیا کہ اگر اس میں بھی کوتاہی ہوئی تو مناسب احکامات جاری کئے جائیں گے۔
یہ درخواستیں محکمہ داخلہ کے 5 اگست کی نوٹیفکیشن کو چلینج کرتی ہیں جس کے تحت ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 95 کے تحت کشمیر سے متعلق 25 مطبوعات ضبط کرنے کا حکم دیا گیا تھا کہ یہ کتابیں “غلط بیانی اور علاحدگی پسندی” کو فروغ دیتی ہیں۔
یہ چلینج چار علاحدہ درخواستوں کے ذریعے دائر کیا گیا ہے جن میں صحافی ڈیوڈ دیو داس، ریٹائڑد ایئر وائس مارشل کپل کاک،وکیل شاکر شبیر اور سواستک سنگھ شامل ہیں۔
درخواست گذاروں کا موقف ہے کہ یہ نوٹیفکیشن غیر آئینی اور آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ 5 اگست کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں جموں وکشمیر محکمہ داخلہ نے کشمیر سے متعلق 25 کتابوں پر پابندی عائد کی تھی۔
ان کتابوں کے مصنفین میں ارون دھتی رائے اور اے جی نورانی شامل ہیں۔ دیگر کتابوں میں سیاسی تبصرے اور تاریخی بیانات شامل ہیں جن میں معروف آئینی ماہر نورانی کی کشمیر ڈسپیوٹ 1947-2012، کشمیر ایٹ دی کراس روڈ اینڈ کنٹیسٹڈ لینڈز از سمنترا بوس، ان سرچ آف اے فیوچر: دی کشمیر سٹوری از ڈیوڈ دیوداس، ارون دھتی رائے کی آزادی اور اے ڈسمنٹلڈ اسٹیٹ: دی انٹولڈ سٹوری از انورادھا بھسین خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
قبل ازیں پابندی کو چلینج کرنے والی ایک عوامی مفاد کی عرضی عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی تھی تاہم عدالت عظمیٰ نے درخواست گذار کو جموں و کشمیر اور لداخ ہائی سے رجوع کرنے کامشورہ دیا جس کے بعد معاملہ فل بینچ کے سامنے آگیا۔
0
