سری نگر،26 دسمبر(یو این آئی) سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کو وادی سے باہر مختلف جیلوں میں رکھے گئے کشمیری زیرِ سماعت قیدیوں کی مسلسل حراست پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال نے درجنوں خاندانوں کو جذباتی اور مالی طور پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ شدید مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ وہ اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے دور دراز جیلوں کا بار بار سفر کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اُن کے مطابق متعدد گھرانے روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے قابل بھی نہیں رہ گئے، ایسے میں جیل تک کے طویل سفر اُن کے لیے ناممکن ہو چکے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے بتایا کہ انہوں نے فروری میں چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی کو تحریری طور پر وادی سے باہر قید کشمیری زیرِ سماعت قیدیوں کی تفصیلات مانگی تھیں، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بعدازاں انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور ہوم سکریٹری کو بھی خطوط ارسال کرکے ان قیدیوں کی وادی کی جیلوں میں منتقلی کی اپیل کی، مگر اس کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
انہوں نے کہا کہ معاملہ پھر عوامی مفاد کی عرضداشت کے ذریعے عدالت میں اٹھایا گیا، تاہم افسوس کی بات ہے کہ اس درخواست کو سیاسی رنگ دے کر خارج کر دیا گیا۔ محترمہ محبوبہ نے سوال اٹھایا کہ اگر عدالت نے عرضداشت خارج کر دی تھی تو پھر از خود نوٹس کیوں نہیں لیا گیا؟ انہوں نے کہا، ’عدالت یہ جاننے میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتی کہ زیرِ سماعت قیدی بغیر سزا کے برسوں جیلوں میں کیوں پڑے ہیں؟‘
محبوبہ مفتی نے کہا کہ غریب خاندانوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بار بار عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں، ناانصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم، صدرِ ہند اور سابق چیف جسٹس کے بیانات میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک کی جیلوں میں 76 فیصد سے زائد قیدی زیرِ سماعت ہیں، پھر بھی ایسے حساس مسائل حل نہ ہونا افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تشکیل پانے کے بعد امید تھی کہ اس انسانی مسئلے کو حل کیا جائے گا، لیکن پیش رفت نہ ہونے سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔ محبوبہ کے مطابق کشمیر سے منتخب نمائندوں کی غیر موجودگی نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ میں آغا سید روح اللہ مہدی اور میان الطاف احمد جیسے نمائندے موجود ہوتے تو وہ اس متعلق سرکاری اعداد و شمار طلب کر سکتے تھے، مگر ایسا نہیں ہو پایا۔
محبوبہ مفتی نے بتایا کہ انہوں نے عمر عبداللہ سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ایک ٹیم تشکیل دیں جو بیرونِ کشمیر مختلف جیلوں کا دورہ کرکے کشمیری زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد اور حالت کا جائزہ لے۔
انہوں نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اُن کا مطالبہ صرف اُن قیدیوں کی منتقلی سے متعلق ہے جن پر جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی اس معاملے کی پیروی جاری رکھے گی۔
آخر میں محبوبہ مفتی نے کہا، ’ہم نے ان خاندانوں کی تکلیف اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم یہ مسئلہ اٹھائیں، اور ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
0
