0

بارہمولہ میں جہلم سے ملنے والا قدیم مجسمہ محکمہ آثارِ قدیمہ کے سپرد

سری نگر،26 دسمبر(یو این آئی) بارہمولہ پولیس نے دریائے جہلم سے ایک ماہی گیر کو ملنے والے پتھر کے نایاب مجسمے کو محفوظ رکھنے، اس کا ریکارڈ تیار کرنے اور آئندہ سائنسی تحقیق کے لیے باقاعدہ طور پر محکمہ آثارِ قدیمہ کے حوالے کر دیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق 25 دسمبر 2025 کو نذیر احمد لٹو ولد غلام محمد لٹو ساکن شالٹینگ،زوگیار نے پولیس اسٹیشن شیری میں رپورٹ درج کرائی کہ ماہی گیری کے دوران اسے دریائے جہلم سے ایک پتھر کا قدیم مجسمہ ملا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مجسمے کو اپنی تحویل میں لیا اور اسے پولیس اسٹیشن شیری میں انتہائی حفاظت کے ساتھ محفوظ کر دیا۔
اس کے بعد 26 دسمبر 2025 کو ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیوز، آرکیالوجی اینڈ میوزیمز، جموں و کشمیر کی جانب سے موصولہ ہدایات اور تمام قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد بارہمولہ پولیس نے متعلقہ دستاویزی کارروائی انجام دے کر مجسمہ،جسے ابتدائی جانچ کے بعد دیوِ درگا کا مجسمہ قرار دیا گیا، کو باضابطہ طور پر آرکیالوجی ونگ سرینگر کے افسران کے سپرد کر دیا۔
بارہمولہ پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ضلع انتظامیہ ثقافتی و تاریخی ورثے کے تحفظ کی ذمہ داری کو انتہائی سنجیدگی سے نبھاتی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو کوئی قدیم، تاریخی یا آثارِ قدیمہ کی اہمیت رکھنے والی شے یا نشانی دستیاب ہو تو فوراً پولیس یا متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ ایسی قیمتی وراثت کو محفوظ رکھا جا سکے اور اسے سرکاری تحویل میں لا کر تحقیق کے قابل بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں